|
|
|
| |
 |
|
| |
|
|
|
|
| |
آسودگی کے زہر کا تریاک بھی نہیں!!
اِدھر ایک دہائی سے زیادہ مدت ہوئی ہم مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی کا چرچا بہت ہوا اور کچھ ادارے، انجمنیں اس سلسلے میں متحرک بھی ہوئیں جن کی ستائش لازم ہے۔ مگر کیا یہ سچ ہے کہ ہم ’تعلیمی پسماندگی‘ کے مفہوم تک پہنچ گئے ہیں؟ اور جو کچھ اس ضمن میں کام ہو رہا ہے وہ صحیح سمت میں ہو رہا ہے۔؟
دوسری بات یہ ہے کہ مادری زبان کا ہی ذریعہ¿ تعلیم ہونا اور ہمارے ایک بڑے طبقے کا انگریزی میڈیم کی طرف آندھی طوفان کی طرح لپکناکیا ہمارے جملہ مسائل کا حل ہے؟۔ ہماری ناقص رائے میں ان مسائل کی بنیاد وہ ذہنی غربت ہے جو ایک مدت کے’ افلاس‘ کا نتیجہ ہے اور یہ افلاس صرف مالی نہیں بلکہ فکری بھی ہے۔ اب مسلمانوں کے ایک طبقے میںمالی افلاس تو بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے مگر جسے فکری افلاس کہتے ہیں وہ بہر صورت باقی ہے بلکہ اس میں کچھ شدت بھی آئی ہے وہ یوں کہ ذہنی یا فکری افلاس میں مبتلا شخص کے پاس اگر زرو ما ل آجائے تو وہ مال و زر اس کےلئے کسی بچے کے ہاتھ میں تیز دھار والے چاقو چھری کے مصداق ہوگا کہ نہ جانے کب وہ کیا کر لے۔ اس کے بہت سارے منفی مظاہر ہمارے سامنے ہیں۔ سامنے کی ایک مثال یوں ہے کہ بہت وقت نہیں گزرا جب کسی مسجد کا متولی(ٹرسٹی) صرف ما لدار نمازی نہیں ہوتا تھا بلکہ محلے کا وہ مشرع مسلمان جو غیر معمولی سوجھ بوجھ کا حامل بھی ہو، نہ صرف شرعی امور جانتا ہو بلکہ کچھ دُنیاوی ضابطوں کا بھی جانکار ہو۔اب کیا حال ہے؟ ا سکا جواب لکھیں تو اس کالم کی جگہ کا ضیاع ہوگا۔ صرف مال ہی ہماری دُنیا سنوار دے گا یہ تصور ناقص ہے۔ ہم نے بات تعلیم سے شروع کی ہے ہمارے ہاں عام طور پر تعلیم کے نام پر جو نیت یا مطمح نظرہو تا ہے وہی قابلِ غور ہے۔” بس یہی کہ ہماری اولاد کسی ایسے شعبے میں ملازمت حاصل کر سکے جہاں اسے اچھی سے اچھی تنخواہ ملے اور دیگر الاونس وغیرہ حاصل ہو جائیں۔“ یہ بڑے بڑے عالم کہہ چکے ہیں کہ”آسودگی“ ایک طرح کا زہر بھی بن جاتی ہے۔ سب سے پہلے تو وہ انسانی فکر اور اس کے سوتوں پر حملہ آور ہوتی ہے اور پھر بتدریج اپنا کام کرتی ہے ،بلکہ انسان جس معاملے میں سب سے زیادہ حساس ہوتا ہے یعنی مذہب آسودگی ہمارے ذہن میں ا سکے تصور کو ناکارہ کرنے کے مختلف حربے بھی استعمال کرتی ہے۔
یہ ساری باتیں ذہن کے دَر پر کئی دنوں سے یوں دستک دے رہی تھیں کہ ہماری بچیاں تعلیم میں ایک تواتر سے بڑھ رہی ہیں اور عام طور پر یہ تعلیم محض ’حصول ِڈگری‘ کےلئے ہے۔ چلئے یہی صحیح مگر یہ ڈِگریاں جو دوسرے مسائل سے ہمیں دوچار کر رہی ہیں وہ بھی کسی سوہان ِروح سے کم نہیں۔کئی واقعات ہمارے ذہن میں ہیں ہم یہاں صرف ایک واقعہ نقل کر رہے ہیں۔ ہمارے بزرگ دوستوں میں ایک سید صاحب ہیں جن کی تین بیٹیاں ہیں اور تینوں تعلیم یافتہ ہی نہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور عروس البلاد کے کسی کارپوریٹ ادارے میں اچھے عہدے پر فائز ہیں ۔ظاہر ہے کارپوریٹ ادارے میں ملازمت ایک اچھی تنخواہ اور دیگر سہولتوں کی ضامن ہوتی ہے۔ ان لڑکیوں میں سے دو کی شادی بھی ہوئی اور اسے سوئے اتفاق کہئے کہ ان دونوں کی شادیاں ناکامی سے دوچار ہوئیں دونوں کے ہاں ایک ایک بچہ بھی ہے۔ شادی کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ( بقول سید صاحب) لڑکوںکی نااہلی اور روایتی ’رعبِ شوہری‘ بنا۔ انھیں اپنے حقوق تو اچھی طرح ازبر تھے اور ان حقوق کی طلبی میں وہ حق بجانب بھی تھے مگر اُنھیں اپنے فرائض اور اپنی بیوی کے حقوق کا کوئی خیال نہیں تھا پہلے تو برداشت کیا گیا جب یہ یک طرفہ حقوق کی گاڑی نے شدتِ رفتار اختیار کی تو معاملہ علاحدگی پر منتج ہوا۔ اب سنیے تیسری کی کہانی اس کے رِشتے کی بات ایک جگہ چلی تو اس نے ایک ہی جملے میں اس معاملے کو ختم کر دیا کہ ”میں اپنی دو بہنوں کی شادی کا انجام دیکھ چکی ہوں۔ لہٰذا مجھے اس جھنجھٹ میں نہیں پڑنا۔“
ہم نے ان لڑکیوں کی ملازمت کا تذکرہ کیا ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ا س طرح کی ملازمت میں مردو زَن کا اختلاط ایک عام سی بات ہی نہیں بلکہ یہ کسی بھی طرح معیوب نہیں سمجھا جاتا اور اِن مرد و زَن میں ہر مذہب کی نوجوان نسل کام کر رہی ہے۔ پٹرول ا ور آگ کا یکجا ہونا کس کس طرح کے خطرات کا سبب بن سکتا ہے ایک معمولی ذہن کا شحص بھی سمجھ سکتا ہے۔
ہمارے ( بلکہ ہر باخبر شخص کے) علم میں یہ ہے کہ بین مذہبی شادی کی وبا اب ہمارے ہاں بھی عام ہُوا چاہتی ہے۔ دو سری قوموں کے اِنتہا پسند اپنے اپنے طریقے سے اس معاملے میں سرگرم ہیں اور اس کے برعکس ہمارے ہاں اس معاملے کو ابھی تک سنجیدگی سے لیا ہی نہیں گیا کہ ہماری کتنی لڑکیا ں ’دوسرے لڑکوں‘ سے بیاہ کرنے پر آمادہ(یا کر چکی ) ہیں۔ اگر کوئی اس موضوع پر کام کرنا چاہے تو وہ بس اتنا کرے کہ سرکاری رجسٹرار آف میرج کے دفتر سے سال بھر کی رپورٹ حاصل کر ے تو نہ جانے کیسے کیسے انکشاف ہوں۔ ہم نے خفی لفظوں میں اپنی نئی نسل میں فکری الحاد کی طرف اشارے کیے ہیں۔
تعلیم در اصل فکری نظام کی طہارت کا اگر سبب نہ بن سکے تو ہر طرح کے الحاد عام ہو سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے فکر و نظر کے تحفظ کے بارے میں سوچنا ہی نہیں جنگی پیمانے میں عمل کرنے کی ابتدا کرنی چاہئے۔ ورنہ انجامِ بد ہی ہمارا مقدر بنے گا اور ذرا یہ بھی سن لیجئے کہ علامہ اقبال بہت پہلے کیا کہہ چکے ہیں :
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم٪ کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
ن۔ ص
29th Jul 2010, 03:37 pm. |
| |
|
|
|
|
| |
....اور شیطان آزاد ہوگیا! 10-Sep-2010, 03:42 PM |
 |
|
الوداع اے ماہ صیام الوداع 09-Sep-2010, 05:26 PM |
 |
|
آج متبرک مہےنے اور مقدس عےد کی لاج رکھنے کا دن 08-Sep-2010, 04:03 PM |
 |
|
ممبرا کا کالسیکرہسپتال مالداروں کےلئے بنا ہے یا غریبوں کےلئے ! 07-Sep-2010, 04:11 PM |
 |
|
کیایہی ’شب قدر ‘کی قدرہے؟ 06-Sep-2010, 04:20 PM |
 |
|
مسلمانو!خدا کے لئے اب تو صفوں مےں اتحاد پےدا کرلو 05-Sep-2010, 03:08 PM |
 |
|
رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ختم ہورہا ہے مگر مسلمان ....! 04-Sep-2010, 04:13 PM |
 |
|
رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ختم ہورہا ہے مگر مسلمان ....! 03-Sep-2010, 03:36 PM |
 |
|
بیشک اللہ بے نیازہے مگر بے خبر ہر گز نہیں ! 02-Sep-2010, 04:06 PM |
 |
|
بیشک اللہ بے نیازہے مگر بے خبر ہر گز نہیں ! 02-Sep-2010, 04:04 PM |
 |
|
بابری مسجد کا فیصلہ مسلمانوں کےلئے سخت آزمائش 01-Sep-2010, 05:02 PM |
 |
|
گنتی کے دِن بچے ہیںتمہاری نجات کے ! 31-Aug-2010, 03:59 PM |
 |
|
بے شرم پاکستانی کرکٹ کھلاڑی 30-Aug-2010, 03:23 PM |
 |
|
بے شرم پاکستانی کرکٹ کھلاڑی 30-Aug-2010, 03:22 PM |
 |
|
خوب بنا ہے دھندہ،لاو¿ چندہ ،لاو¿ چندہ 29-Aug-2010, 05:31 PM |
 |
|
|
|
|
| |
|
|
|