|
|
|
| |
|
|
|
|
| |
روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ
٭ڈاکٹر عاصم فاروق انصاری:
ےونانی کنسلٹنٹ
حکےمی ےونانی اےنڈ آےوروےدک دواخانہ
انےس منزل،ساغرپلازہ ہوٹل کے سامنے ٹائےگاو¿ں ،بھےونڈی
موبائل:9890357289
Email:drasimfansari@yahoo.co.in
زندگی اللہ رب العزت کے تحت گذاری جائے تو زندگی ہے ورنہ اس کا مفہوم ہی ختم ہوجاتا ہے اس طرح حےوانات ،پرندے اور درندے پےدا ہونے کے بعد اپنی طبعی زندگی گذار کر ختم ہو جاتے ہےں مگر انسانوںکے لئے ےہ زندگی اےک ضابطہ کے تحت گذارنے کا حکم ہے انسان کے لئے اٹھنے بےٹھنے سے لے کر کھانے پےنے حتیٰ کہ سونے تک کا اےک نظام مقرر ہے جب اس نظام مےں حد سے زےادہ تجاوز بر تا جائے تو انسانی جسم لاتعداد عوارضات کا شکار ہو جاتا ہے ۔چونکہ انسان کی جسمانی رہنمائی کے لئے اقرار توحےد ورسالت کے بعد اس کی نفس کی تربےت کے پےش نظر پانچ بار نماز پابندی سے ادا کرنے کا حکم دےا ہے تاکہ سرکش انسان ےہ نہ بھول سکے کہ کچھ پابند ےاں اور کچھ فرائض بھی اس کے ذمے ہےں اس کے ساتھ ہی اہم ذمہ داری رمضان المبارک کے بابرکت روزوں کی ادائےگی ہے اور روزہ زکوٰة کو دےن اسلام مےں نفس کی اصلاح اور جسم کے لئے خصوصی اہمےت حاصل ہے ۔
رمضان المبارک سب سے اہم اور متبرک مہےنہ ہے اس ماہ مبارک مےں ہر طرف برکتوں کا نزول ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے رحمت خداوندی ہر پل کائنات پر ساےہ فگن رہتی ہے ۔اےسے مےں وہ خوش قسمت لوگ جو شب کی پچھلے پہر کی تنہائےوں مےں اپنے خالق کے حضور سجدہ بائے نےاز پےش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہےں وہ اپنے پروردگار کے قرب کو کچھ اس قدر محسوس کرتے ہےں کہ ”نحناقرب الےہ من حبل الورےد “(ذات خدا وندی انسانی شاہ رگ سے بھی زےادہ قرےب ہے )کا فرمان بالکل صادق دکھائی دےتا ہے۔ ذات خداوندی جب پہلے آسمان پر اتر کر ےہ دعوت دے رہی ہو کہ ”ہے کوئی سائل کہ مےں اس کی دعا کو شرف قبولےت سے نواز دوں ”تو ان ہی لوگوں کی خوش بختی پر رشک ہوتا ہے۔جو ان سنہری لمحات کو اپنے وجود کااےک حصہ بنا لےتے ہےں۔ جب ےہ لمحات وجود انسانی کا اےک حصہ بن جاتے ہےں تو اس کا نا تواں جسم جہاں تمام آلائشوں سے پاک ہو جاتا ہے وہےں وہ اےسی قوت کے خزانے کا مالک بن جاتا ہے جس کے سامنے ماسواءاللہ دنےا کی ہر چےز ہےج ہو جاتی ہے ےہ طاقت روحانی بھی ہوتی ہے جسمانی اور نفسےاتی بھی۔جسمانی اعتبار کے لحاظ سے روزہ انسانی صحت کے محافظ کا کردار ادا کرتا ہے وہ انسان کے جملہ نظاموں کی خرابی کی اصلاح کرکے ان کے افعال کو درست کرتا ہے جس کی بدولت اس مےں اےک اےسی نئی قوت جنم لےتی ہے جو امراض کا دفاع کرکے انسانی جسم کو پروان چڑھاتی ہے۔
نفسےاتی اعتبار سے روزہ انسانی اخلاق ،کردار ،گفتار اور حسن سلوک پر بہت عمدہ اثر ڈالتا ہے اس سے انسانوں مےں باہمی بھائی چارگی اور محبت کی فضاءقائم ہوتی ہے اس کی وجہ ےہ ہے کہ انسان روزہ فقط اللہ کی رضا کے لئے رکھتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کی ادائےگی کے سلسلے مےں اس کے دئےے ہوئے احکامات کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہےں رہتا اور انسان ان احکامات پر ہر ممکن عمل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔زبان درازی ،گالی گلوچ،دوسروں پر زےادتی اور بد اخلاقی سے روزہ دار پرہےز کرتا ہے چونکہ دےن اسلام کا مقصد انسان کو اےک اعلیٰ زندگی پر گامزن کرنا ہے اس لئے روزہ اس کا تربےتی کورس بن جاتا ہے ۔غرض ےہ کہ روزہ اےک اےسا امتےازی عمل ہے جو اللہ کے خوف کے حصول کا ذرےعہ ہے اس سے انسان مےں عاجزی وانکساری ،تونگری ،سخاوت ،شجاعت ،ہمدردی اور خود اعتمادی کی صفات پےدا ہوتی ہےں ۔
روزہ اور خود اعتمادی :۔اسلام نے انسانی فکر وعمل کی پاکےزگی اور تندرستی کےلئے جو عبادات وشعائر مقرر کئے ہےں ان مےں روزے کو بڑی اہمےت ہے ۔اسلام جو دےن فطرت ہے فطرت انسانی کی کمزوری سے بخوبی آگا ہ ہے اس نے روزے کو فرض قرار دے کر عادتوں کے مقابلے مےں ہماری خود اعتمادی کو مضبوط بنانا چاہا روزے کی پہلی ضرب ہماری عادتوں پر پڑتی ہے وہ ہمارے سونے جاگنے کے اوقات تبدےل کرتا ہے کھانے پےنے پر اوردوسری ضرورےات پرپابندی عائد کرتا ہے ےہ نہےں ہے کہ کوئی چےز ہماری دست رس سے باہر کردی جاتی ہے اور ہم مجبور اً اس کے بغےر گذار ا کرتے ہےں بلکہ اس کے برعکس کھانے پےنے کا سارا سامان اور دوسری طبعی ضرورےات ہمارے سامنے ہوتی ہےں لےکن ہم ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دےکھتے ہم کوئی عادت پوری نہےں کرتے او رنہ ہی کسی عادت کا حکم مانتے ہےں اور پورا اےک مہےنہ اس طرح گزارتے ہےں گوےا ان عادتوں کے کبھی محکوم تھے ہی نہےں ۔
اسطرح ہرگےارہ مہےنے کے بعد اےک مہےنہ ہم اپنی عادتوں کو ےکسر بدل دےتے ہےں ہم نےند کی زنجےروں کو توڑتے ہےں پےاس کے شدےد مطالبے کو ردکرتے ہےں بھوک کی تکلےف کو نظر انداز کرتے ہےں نفسانی خواہشات کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتے ہےں پھر اگر ہمےں روزے کے حقےقی مقصد ےعنی تقوی،کا پاس ہو تو ہم ہر قسم کے فواحش ومنکرات سے بھی پرہےز کرتے ہےں جس سے ہمےں محسوس ہوتا ہے کہ ہم زندہ قوت ارادی کے مالک ہےں عادتوں کے ہم غلام نہےں بلکہ عادتےں ہماری غلام ہےں۔مضر عادتوں کو چھوڑ کر ہم مفےد اور نئی عادتےں اختےار کر سکتے ہےں اپنے اخلاق وکردار کے لئے بہتر سانچے تلاش کرکے ان مےں ڈھل سکتے ہےں عادتوں کی اس تبدےلی سے ہم مےں اعتماد نفس کا جو ہر پےدا ہوتا ہے اگر ہم اس جوہر کو زندہ محفوظ رکھےں تو آئندہ زندگی کے دوسرے کئی مسائل پر ہم فتح حاصل کر سکتے ہےں ۔
روزہ کے تربےتی کورس کی مدت اےک مہےنہ مقرر کی گئی ہے جس کے لئے ثابت قدمی اور استقلال کی ضرورت ہے جو شخص شروع سے آخر تک روزے کے تمام قواعد و شرائط کی پابندی کرے گا اس مےں خود بخود ےہ احساس پےدا ہوگا کہ وہ صبر آزما حالات سے مقابلے کی صلاحےت بھی رکھتا ہے اور جب کبھی کوئی کٹھن مرحلہ پےش آئے تو مستقل مزاجی اور پامردی کا ثبوت دے سکتا ہے ۔
ہمےں اس بات کا خاص خےال رکھنا چاہےے کہ رمضان المبارک مےں ہمےں جو قوت ارادی ،خود اعتمادی اور مستقل مزاجی کی دولت مےسر آئی ہے وہ کسی صورت ضائع نہ ہونے پائے مگر افسوس ےہ ہے کہ اکثر حالتوں مےں اخلاقی اوصاف کا ےہ نہاےت مفےد موقع ضائع کر دےا جاتا ہے اس صورت حال کی ذمہ داری روزے پر تو ہر حال مےں عائد نہےں ہو سکتی بلکہ در حقےقت وہ نقطہ نگا ہ ہی اس حالت کا ذمہ دار ہے جو روزے کے متعلق عوام مےں پاےا جاتا ہے وہ سمجھتے ہےں کہ صبح سے شام تک بھوکا پےاسا رہنے سے روزے کا مقصد پورا ہوجاتا ہے اس کے برعکس قرآن حکےم نے واضح طور پر بتا دےا کہ روزہ وہ ہے جس سے انسان مےں تقویٰ (پرہےز گاری )پےدا ہو دوسرے لفظوں مےں روزہ اےک ”ذرےعہ ہے اور پرہےز گاری اس کا مقصد مگر ہم نے ذرےعہ کو مقصد سمجھ لےا اور مقصد کی طرف کوئی توجہ نہےں دی نتےجہ ظاہر ہے ہم تےس دن بھوکے پےا سے بھی رہتے ہےں نماز قرآن مجےد کی تلاوت بھی پابندی سے کرتے ہےں اور جب ےہ مبارک مہےنہ گذر جاتا ہے تو ہمارے ظاہر وباطن مےں کوئی تبدےلی واقع نہےں ہوتی اور پھر شوال مےں ہم بالکل وےسے ہی ہوتے ہےں جےسے شعبان مےں تھے ۔
آج ضرورت ہے کہ ہم روزے کے متعلق اپنا نظرےہ بدلےں اگر ہم اپنے طرز فکر کی اصلاح کرلےں اور ہمارا اعتقاد ہوکہ رمضان پر ہےز گاری کی مشق کا مہےنہ ہے اور اس مشق کے جو نتائج حاصل ہوں وہ ہمےں برقرار رکھنا ہےں تو اس مےں کوئی شک نہےں کہ ہمےں حقےقی فوائد حاصل ہوں گے اور ہماری خود اعتمادی مےں چار چاند لگ جائےں گے ساتھ ہی ہمارے ذہن اور اعمال مےں پاکےز گی بھی پےدا ہوگی ۔
روزہ کے بارے مےں اب تک ےہی خےال کےا جاتا تھا کہ روزہ بجز اس کے اور کچھ نہےں کہ اس سے نظام ہضم کو آرام ملتا ہے مگر جےسے جےسے سائنس اور علم طب نے ترقی کی اس حقےقت کا بتدرےخ علم حاصل ہوا کہ روزہ تو اےک طبعی معجزہ ہے۔ قرآن حکےم مےں سورة بقرہ کی آےات ۱۸۳سے ۱۸۷ تک دےن کے اہم رکن روزہ کا حکم دےا گےا ہے اور تمام تفصےلات بتائی گئی ہےں۔آےت نمبر ۱۸۴ آخری حصہ مےں بتاےا گےا ہے کہ روزہ اےک اچھی چےز ہے جس سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہےں اس امر کا بھی اعلان کےا گےا کہ ہم اس سے حاصل کردہ رحمتوں کو سمجھ سکتے ہےں اگر ہم سچ کو پہچان سکےں تو قارئےن آئےے ہم سائنس کے نظرےہ سے دےکھتے ہےں کہ روزہ کس طرح ہماری صحت مند مےں مدد دےتا ہے اور صحت کا محافظ ہے۔
روزہ اور خون کے روغنی مادے :۔ہم سب جانتے ہےں کہ رمضان المبارک کے دوران ہمار ی غذائی عادتےں بدل جاتی ہےں روزوں کے جسم پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہےں ان مےں سب سے زےادہ قابل ذکر خون کے روغنی مادوں مےں ہونے والی تبدےلےاں ہےں خصوصاً دل کے لئے مفےد چکنائی ۔اےچ۔ڈی ۔اےل ۔کی سطح مےں تبدےلی بڑی اہمےت کی حامل ہے کےونکہ اس سے دل اور شرےانوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے اسی طرح دو مزےد چکنائےوں ۔اےل۔ڈی۔اےل ۔اور ٹرائی گلےسر ائےڈ کی سطحیںق بھی معمولی پر آ جاتی ہےں اس سے ےہ ثابت ہوتا ہے کہ رمضان المبارک ہمےں غذائی بے احتےاطوں پر قابو پانے کا بہترےن موقع فراہم کرتا ہے اور اس مےں روزوں کی وجہ سے چکنائےوں کے استحالے (مےٹا بولزم )کی شرح بھی بہت بہتر ہو جاتی ہے۔
دوران خون پر روزہ کے مفےد اثرات :دن مےں روزہ کے دوران جسم مےں خون کی مقدار کی کمی ہو جاتی ہے جس سے دل کو انتہائی آرام ملتا ہے سب سے اہم بات ےہ ہے کہ روزے کے دوران بڑھا ہوا خون کا دباو¿ ہمےشہ کم سطح پر ہوتا ہے ۔شرےانوں کی کمزوری اور فرسودگی کی اہم ترےن وجوہات مےں سے اےک وجہ خون مےں باقی ماندہ مادے (Remnanuls) کا پوری طرح تحلےل نہ ہو سکنا ہے جبکہ دوسری طرف روزہ بطور خاص افطار کے وقت کے نزدےک خون مےں موجود غذائےت کے تمام ذرے تحلےل ہو چکے ہوتے ہےں اس طرح خون کی شرےانوں کی دےواروں پر چربی ےا دےگر اجزاءجم نہےں پاتے جس کے نتےجے مےںشرےانےں سکڑنے سے محفوظ رہتی ہےں چنانچہ موجودہ دور کی انتہائی خطرناک بےماری شرےانوں کی دےواروں کی سختی (Arteriosclerosis) سے بچنے کی بہترےن تدبےر روزہ ہی ہے ۔اس کے علاوہ انسانی جسم کے اہم اعضاءکی بحالی بھی روزے کی برکت سے بحال ہو جاتی ہے ۔
روزے کے دوران جب خون مےں غذائی مادے کم ترےن سطح پر ہوتے ہےں تو ہڈےوں کا گودہ حرکت پذےر ہو جاتا ہے اس کے نتےجے مےں کمزور لوگ روزہ رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زےادہ خون پےدا کر سکتے ہےں اس طرح روزے سے متعلق بہت سی اقسام کی حےاتےاتی برکات کے ذرےعے اےک دبلا پتلا شخص اپنا وزن بڑھا سکتا ہے اور موٹے لوگ روزے کی عمومی برکات کے ذرےعے اپنا وزن کم کر سکتے ہےں ۔
نظام اعصاب پر روزہ کے مفےد اثرات :۔روزہ کے دوران اکثر لوگوں کو غصے اور چڑ چڑے پن کا مظاہرہ کرتے دےکھا گےا ہے جس کا سبب لوگ روزے کو گردانتے ہےں مگر اس بات کو ےہاں پر اچھی طرح سمجھ لےنا چاہےے کہ ان باتوں کا روزہ اور اعصاب سے کوئی تعلق نہےں ہوتا اس قسم کی صورت حال انسانوں کے اندر انانےت (egotistic) ےا طبےعت کی سختی کی وجہ سے ہوتی ہے دوران روزہ ہمارے جسم کا اعصابی نظام بہت پر سکو ن اور آرام کی حالت مےں ہوتا ہے نےز عبادات کی بجا آواری سے حاصل شدہ تسکےن ہماری تمام کدورتوں اور غصے کو دور کردےتی ہےں اس سلسلے مےں زےادہ خشوع وخضوع اور اللہ کی مرضی کے سامنے سرنگوں ہونے کی وجہ سے تو ہماری پرےشانےاں بھی تحلےل ہو کر ختم ہو جاتی ہےں اس طرح دور حاضر کے شدےد اور پےچےدہ مسائل جو اعصابی دباو¿ کی صورت مےں ہوتے ہےں تقرےباً ناپےد ہو جاتے ہےں۔روزہ کے دوران چونکہ ہماری جنسی خواہشات علےحدہ ہوجاتی ہےں چنانچہ اس وجہ سے بھی ہمارے اعصابی نظام پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہےں ہوتے ۔
روزہ اور وضو کے مشترکہ اثر سے جو مضبوط ہم آہنگی پےدا ہوتی ہے اس سے دماغ مےں دوران خون کا بے مثال توازن قائم ہو جاتا ہے جو کہ صحت مند اعصابی نظام کی نشاندہی کرتا ہے اس کے علاوہ انسانی تحت الشعورجو رمضان کے دوران عبادات کی مہربانےوں کی بدولت صاف شفاف اور تسکےن پذےر ہو جاتا ہے اعصابی نظام سے ہر قسم کے تناو¿ اور الجھن کو دور کرنے مےں مدد کرتا ہے ۔
خلےات (Cells) رمضان المبارک کا بے چےنی سے انتظار کرتے ہےں :۔روزہ کا سب سے اہم اثر جسمانی خلےوں کے درمےان اور اندورنی سےال مادوں کے درمےان توازن کو قائم رکھنا ہوتا ہے چونکہ روزہ کے دوران مختلف سےال مقدار مےں کم ہوجاتے ہےں جس سے خلےوں کے عمل مےں بڑی حد تک سکون پےدا ہو جاتا ہے اسی طرح Epithelial Cells جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہےں ان کو بھی صرف روزہ کے ذرےعے بڑی حد تک آرام اور سکون ملتا ہے جس کی وجہ سے ان کی صحت مندی مےں اضافہ ہوتا ہے ۔علم خلےاتےات کے نقطہ نظر سے ےہ کہا جا سکتا ہے کہ لعاب بنانے والے غدود ،گردن کے غدود تےموسےہ اور لبلبہ کے غدود شدےد بے چےنی سے ماہ رمضان کا انتظار کرتے ہےں تاکہ روزہ کی برکت سے انہےں کچھ سستانے کا موقع مل جائے اور آئندہ مزےد کام کرنے کے لئے اپنی تواناےﺅں کو اکھٹا کر سکےں۔
نظام ہضم پر روزہ کے اثرات :نظام ہضم ہمارے جسم کا سب سے اہم نظام ہے اس کے اہم اعضاءلعابی غدود ،زبان ،گلا ،غذائی نالی ،معدہ ،بڑی آنت ،چھوٹی آنت ،مری ،جگر اور لبلبہ وغےرہ خود بخوداےک نظام سے عمل پذےر ہوتے ہےں جےسے ہی ہم کچھ کھاتے ہےں ےہ خود کار نظام حرکت مےں آجاتا ہے اور اس کا ہر عضو اپنا مخصوص کام شروع کر دےتا ہے اور ظاہر ہے ےہ سارا نظام چوبےس گھنٹے مصروف عمل رہتا ہے تو اعصابی دباو¿ اور غلط قسم کی خوراک کی وجہ سے ےہ گھس جاتا ہے تب روزہ اسکے لئے ترےاق ثابت ہوتاہے اور اےک ماہ تک اس سارے نظام پر آرام طاری کر دےتا ہے مگر روزہ کا سب سے حےرتناک اثر جگر پر ےہ ہوتا ہے کہ اسے روزانہ چھ گھنٹوں تک آرام کرنے کا موقع مل جاتا ہے توانائی بخش کھانے کے اسٹور کرنے کے عمل سے بڑی حد تک آزاد ہو جاتا ہے اور اپنی توانائی خون مےں گلوبےولےن (جو جسم کو محفوظ رکھنے والے مناعتی نظام کو طاقت دےتاہے )کی پےداوار پر صرف کر سکتا ہے ۔
روزہ نظام ہضم کے سب سے حساس حصے گلے اور غذائی نالی کو تقوےت دےتا ہے اس کے اثر معدہ سے نکلنے والی رطوبتےں بہتر طور پر متوازن ہو جاتی ہےں جس سے تےزابےت (Acidity)جمع نہےں ہوتی اس کی پےداوار رک جاتی ہے ۔معدہ کے رےاحی دردوں مےں کافی افاقہ ہوتا ہے قبض کی شکاےت رفع ہو جاتی ہے اور پھر شام کو روزہ کھولنے کے بعد معدہ زےادہ کامےابی سے ہضم کا کام انجام دےتا ہے ۔
آنتوں پر روزہ کے بہت مفےد اثرات ظاہر ہوتے ہےں ےہ آنتوں کو توانائی بخشتا ہے انٹرےوں کے جال کو نئی توانائی اور تازگی عطا کرتا ہے آنتوں کے ہاضم رسوں کی خرابی کو دور کرتا ہے اس طرح ہم روزہ رکھ کر ان تمام بےمارےوں کے حملے سے محفوظ ہو جاتے ہےں جو ہضم کرنے والی نالےوں پر ہوتے ہےں ۔
روزہ کے بے شمار فوائد:ےہ تو سبھی جانتے ہےں کہ روزہ خرابی معدہ کے مرےضوں کےلئے ےا بھاری جسم والوں کے لئے بہت مفےد ہے طب ےونانی کے علاوہ مغرب کے بلند پاےہ ڈاکٹر بھی روزہ کی طبی اہمےت کو تسلےم کرتے ہےں ۔غذا کے ہضم ہونے مےں بدن کی جو قوت صرف ہوتی ہے روزہ رکھنے کی صورت مےں ےہی قوت بدن سے فاسداور ردی مادوں کو خارج کرتی ہے جس سے جسم پاک وصاف ہو جاتا ہے پرانے امراض مثلاً دائمی نزلہ ،ذےابےطےس ،ہائی بلڈ پرےشر اور معدہ کی خرابی مےں روزہ بہت ہی مفےد اثرات مرتب کرتا ہے اس سے بدن کی قوت مدافعت کو اسقدر طاقت ملتی ہے (قوت مدافعت جسم انسانی کو امراض وآلام سے محفوظ رکھتی ہے )کہ سال بھر تک بدن صحت مند رہتا ہے اس کے علاوہ اےسے لوگ جو غےر شادی شدہ ہےں روزہ رکھنے سے ان کے اندر اےک ڈسپےلن صبر اور ضبط نفس پےدا ہو جاتا ہے ۔
کےا کھائےں کےا نہ کھائےں ؟:۔روزہ رکھنے سے نہ صرف روحانی ،پاکےزگی اور تزکےہ نفس ہوتا ہے بلکہ انسان مختلف امراض سے بھی نجات حاصل کرتا ہے روزہ مےں جسم انسانی توانائی سے بھر جاتا ہے مگر ےہ تمام فوائد صرف اسی صورت مےں حاصل ہو سکتے ہےں جب ہم غذا کے بارے مےں افراط و تفرےط کا شکار نہ ہوں اور کھانے پےنے مےں اعتدال کی راہ اختےار کرےں آج بھی اکثر لوگو ں کو ےہ غلط فہمی ہے کہ روزہ رکھنے سے کمزوری آتی ہے ےہ سراسر غلط ہے کےونکہ رمضان مےں پروٹےن اور کابوہائےڈرےٹ اجزاءسے پر غذا عام دنوں کے مقابلے مےں زےادہ استعمال کی جاتی ہے پھر تمام روز سحری مےں بھی غذا استعمال کی جاتی ہے اس طرح روزہ رکھنے سے کسی بھی قسم کی کمزوری لاحق نہےں ہوتی بلکہ اس کا سب سے بڑا فائدہ تو ےہ ہوتا ہے کہ اس صورت مےں جسم سے فاسد مواد خارج ہو جاتے ہےں ۔
روزہ دار کمزوری کے خےال سے خوب کھاتے ہےں افطاری کے وقت پکوڑے ،سموسے ،مٹھائی ،کھجور اور پھل وغےرہ شوق سے کھاتے ہےں پھر کھانے مےں گھی سے پر مختلف اقسام کے کھانے بڑے مزے سے کھائے جاتے ہےں سحری مےں پر اٹھے انڈے ،گوشت وغےرہ سے کام و دہن کی تواضع کی جاتی ہے جس سے کھٹے ڈکار آتے ہےں طبےعت مےں بوجھل پن ہوتا ہے اور معدہ خراب ہو جاتا ہے اس لئے رمضان المبارک مےں ہلکی غذا استعمال کرنا سب سے عمدہ خےال کےا جاتا ہے خاص طور سے اےسی غذا جس مےں گھی وغےرہ کی مقدار برائے نام ہو۔افطار کے وقت کھجور اور کوئی نمکےن چےز استعمال کرےں نمک پارے ےانمک استعمال کرےں کےونکہ انسان تمام دن فاقہ سے ہوتا ہے اس لئے جسم مےں نمک کی کمی ہو جاتی ہے اور جسم نمکےن چےز کا طالب ہوتا ہے تاکہ اس کی کمی کو پورا کر سکے ۔کھجور سے روزہ افطار کرنا سنت ہے کےونکہ ےہ دن بھر کی کمزوری کو دور کردےتی ہے اےک چھٹانک کھجور مےں ۱۶۰ غذائی حرارے قوت ہوتی ہے اےک چھٹانک انگور مےں ۲۶ اور اےک چھٹانک انار مےں ۳۲ حرارے غذائی قوت ہوتی ہے افطار کے وقت چائے اور دودھ بھی استعمال کر سکتے ہےں ۔آلو ،بےنگن ،ماش کی ڈال چنے وغےرہ کھانے سے پرہےز کرےں ۔پلاو¿ ےا کھچڑی کھائےں رات کا کھانا کھانے کے بعد تراوےح پڑھےں تاکہ کھانا ہضم ہو جائے صبح سحری مےں ہلکا پھلکا کھانا کھائےں خاص طور پر سبزی اور بکری کے گوشت کا شوربہ اور پےالی بھر چائے نہاےت مفےد ہے ۔
روزہ کے سائنسی انکشافات :اسلام نے روزہ کو مومن کے لئے شفاءقرار دےا اور جب سائنس نے اس پر تحقےق کی تو سائنسی ترقی چونک اٹھی اور اقرار کےا کہ اسلام اےک کامل مذہب ہے ۔فرانس مےں آج بھی ےہودی اےک پروجےکٹ کے تحت کام کر رہے ہےں جس کاکام ےہ تحقےق کرنا ہے کہ اسلام کے اندر کےا کےا اچھائےاں ہےں تو ہم بن کہے اسلام قبول کرلےں گے چنانچہ اس پر عمل کرتے ہوئے ےہودی باقاعدہ مہےنہ بھر روزہ رکھتے ہےں مسواک کرتے ہےں وضو کرتے ہےں نماز اور تلاوت کی پابندی کرتے ہےں باقاعدہ اعتکاف مےں بےٹھتے ہےں سحری وافطاری کرتے ہےں اور عےد کی نماز بھی پڑھتے ہےں ۔
گاندھی جی فاقہ کے لئے مشہور تھے اور روزہ کے قائل تھے وہ کہا کرتے تھے کہ انسان کھا کھا کر اپنے جسم کو سست کر لےتا ہے اگر تم جسم کو گرم اور متحرک رکھنا چاہتے ہو تو جسم کو کم از کم خوراک دواور روزے رکھو سارا دن جاپ الا پو اور پھر شام کو بکری کے دودھ سے روزہ کھولو۔
آکسفورڈےونےورسٹی کے مشہور پروفےسر مورپالڈ اپنا قصہ اس طرح بےان کرتے ہےں کہ ”مےں نے اسلامی علوم کا مطالعہ کےا اور جب روزے کے باب پر پہنچا تو مےں چونک پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اتنا عظےم فارمولہ دےا ہے اگر اسلام اپنے ماننے والوں کو اور کچھ نہ دےتا صرف روزے کا فارمولہ ہی دے دےتا تو پھر بھی اس سے بڑھ کر ان کے پاس اورکوئی نعمت نہ ہوتی مےں نے سوچا کہ اس کو آزمانا چاہےے پھر مےں نے روزے مسلمانو ں کے طرز پر رکھنا شروع کئے مےں عرصہ دراز سے ورم معدہ (Stomach Inflammation) مےں مبتلا تھا کچھ دنوں بعد ہی مےں نے محسوس کےا کہ اس مےں کمی واقعی ہو گئی ہے مےں نے روزوں کی مشق جاری رکھی کچھ عرصہ بعد ہی مےں نے اپنے جسم کو نارمل پاےا حتیٰ کے مےں نے اےک ماہ بعد اپنے اندر انقلابی تبدےلی محسوس کی ۔“
پوپ اےلف گال ہالےنڈ کا سب سے بڑا پادری گذرا ہے روزے کے متعلق اپنے تجربات کچھ اس طرح بےان کرتا ہے کہ ”مےں اپنے روحانی پےروکاروں کو ہر ماہ تےن روزے رکھنے کی تلقےن کرتا ہوں مےں نے اس طرےقہ کار کے ذرےعے جسمانی اور وزنی ہم آہنگی محسوس کی مےرے مرےض مسلسل مجھ پر زور دےتے ہےں کہ مےں انہےں کچھ اور طرےقہ بتاو¿ں لےکن مےں نے ےہ اصول وضع کر لےا ہے کہ ان مےں وہ مرےض جو لا علاج ہےں ان کو تےن روز کے نہےں بلکہ اےک مہےنہ تک روزے رکھوائے جائےں ۔مےں نے شوگر،دل کے امراض اور معدہ مےں مبتلا مرےضوں کو مستقل اےک مہےنہ تک روزہ رکھوائے ۔شوگرکے مرےضوں کی حالت بہتر ہوئی ا ن کی شوگر کنٹرول ہو گئی ،دل کے مرےضوں کی بے چےنی اور سانس کا پھولنا کم ہوگےا سب سے زےادہ افاقہ معدہ کے مرےضوں کو ہوا ۔“
فارما کولوجی کے ماہر ڈاکٹر لوتھر جےم نے روزے دار شخص کے معدے کی رطوبت لی اور پھر اس کا لےبارٹری ٹےسٹ کرواےا اس مےں انہوں نے محسوس کےا کہ وہ غذائی متعفن اجزاء(food particles septic)جس سے معدہ تےزی سے امراض قبول کرتا ہے بالکل ختم ہو جاتے ہےں ڈاکٹر لوتر کا کہنا ہے کہ روزہ جسم اور خاص طور معدے کے امراض مےں صحت کی ضمانت ہے ۔
مشہور ماہر نفسےات سگمنڈ نرائےڈ فاقہ اور روزے کا قائل تھا اس کا کہنا ہے کہ روزہ سے دماغی اور نفسےاتی امراض کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے روزہ دار آدمی کا جسم مسلسل بےرونی دباو¿ کو قبول کرنے کی صلاحےت پالےتا ہے روزہ دار کو جسمانی کھےنچاو¿ اور ذہنی تناو¿ سے سامنا نہےں پڑتا۔
جرمنی ،امرےکہ ،انگلےنڈ کے ماہر ڈاکٹروں نے رمضان المبارک مےں تمام مسلم ممالک کا دورہ کےا اور ےہ نتےجہ اخذ کےا کہ رمضان المبارک مےں چونکہ مسلمان نماز زےادہ پڑھتے ہےں جس سے پہلے وہ وضو کرتے ہےں اس سے ناک ،کان ،گلے کے امراض بہت کم ہو جاتے ہےں کھانا کم کھاتے ہےں جس سے معدہ وجگر کے امراض کم ہو جاتے ہےں چونکہ مسلمان دن بھر بھوکا رہتا ہے اس لئے وہ اعصاب اور دل کے امراض مےں بھی کم مبتلا ہوتا ہے ۔
مغربی ماہرےن سائنس ،ماہرےن طب اور ماہرےن نفسےات نے مل کر اسلامی زندگی پر تحقےق اور رےسرچ کا نےا ےاب کھولا ہے کےونکہ مغرب موجودہ طرز زندگی سے تنگ ہے اور اس وقت سب سے زےادہ خودکشی ،عصمت دری ،ہم جنس پرستی ،اغواء،قتل ،انتقامی کاروائےاں ،بم دھماکے ،اجتمائی قتل ،ناجائز اولاد ،طلاقےں وغےرہ جےسے مہلک خطرناک اور دنےا کو تباہی کے گڑھے مےں ڈالنے و الے حادثات کی طرف ےورپ اور مغربی معاشرہ گامزن ہے اب وہ اس دلدل سے نکلنا چاہتے ہےں وہ بخوبی سمجھنے لگے ہےں کہ ان تمام سے نجات کا واحد راستہ صرف اور صرف اسلام ہی ہے ۔مستشرقےن اسوقت اسلامی تعلےمات کو کھنگال کر ان مےں اپنے لئے اصلاحی راستے اور ترقی کی راہےں تلاش کر رہے ہےں آج ےورپ پھر پھرا کر واپس اسلام کی طرف لوٹ رہا ہے اور ہم ہےں کہ ےورپ کی تقلےد مےں اندھے دوڑے چلے جار ہے ہےں ۔روزہ کے بارے مےں ےورپی ماہرےن آج بھی تحقےق کر رہے ہےں حتیٰ کی وہ اس بات کو تسلےم کر چکے ہےں کہ روزہ جہاں جسمانی زندگی کو نئی روح اور توانائی بخشتا ہے وہاں اس سے بے شمار معاشی پرےشانےاں بھی دور ہوتی ہےں کےونکہ جب امراض کم ہوں گے تو ہسپتال بھی کم ہوں گے اور ہسپتال کا کم ہونا ہی معاشرہ کے پر سکو ن ہونے کی علامت ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
9th Sep 2008, 02:11 am. |
| |
|
|
|
|
| |
”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“ 23-Sep-2008, 02:07 AM |
 |
|
ڈی اےن اے تخلےق الٰہی کا کرشمہ 16-Sep-2008, 02:22 AM |
 |
|
”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“ 16-Sep-2008, 02:21 AM |
 |
|
مالی نقصانات سے ہم بےمار ہو سکتے ہےں 09-Sep-2008, 01:56 AM |
 |
|
امراض چشم کی انقلابی نئی تکنےک ۔ اےف ۔ڈی ۔او۔سی۔ٹی 09-Sep-2008, 01:53 AM |
 |
|
ہومیو پیتھی اور معین بھائی مرحوم (خراج عقیدت ) 09-Sep-2008, 01:48 AM |
 |
|
اسے برسات کے موسم میں ہی دمہ ہوتا 09-Sep-2008, 01:46 AM |
 |
|
ہومیو پتھی انہو نی پیتھی “ 09-Sep-2008, 01:45 AM |
 |
|
ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“ 02-Sep-2008, 02:13 AM |
 |
|
امراض چشم کی انقلابی نئی تکنےک ۔ اےف ۔ڈی ۔او۔سی۔ٹی 02-Sep-2008, 02:12 AM |
 |
|
مسواک اےک نعمت........؟ 02-Sep-2008, 02:11 AM |
 |
|
اپنی زندگی کے کیلئے ....دوڑیں 02-Sep-2008, 02:10 AM |
 |
|
پیو ند کاری کے مریضوں کے لئے اچھی خبر 02-Sep-2008, 02:09 AM |
 |
|
شراب سے ذہنی جسمانی ہلا کتیں ! 02-Sep-2008, 02:08 AM |
 |
|
اسے برسات کے موسم میں ہی دمہ ہوتا 02-Sep-2008, 02:07 AM |
 |
|
|
|
|
| |
|
|
|