Friday, September 10, 2010, 03:47:45 PM Download Font  |   Urdu Keyboard  |   On-Screen Keyboard  
The Urdu Times Daily, Mumbai
Home Aaj Kal Analysis Editorial Entertainment Sports News Mumbai News Regional News Islamic News World News National News
         
  مصےبت، صبر اور رضا

اےک انصاری ؓ اپنے لڑکے کو حضرت نبی ﷺ کے پاس لاےا کر تے تھے ۔آ پ ﷺ نے پو چھا کہ کےا تم اس سے محبت کر تے ہو اس نے عرض کےا ہاں ےا رسول اللہ ﷺ خدا آپ سے بھی اےسی ہی محبت کرے جےسے مجھے اس سے ہے۔ آپ صلی اللہ علےہ وسلم نے ارشاد فرماےا کہ خدا کو مےری اس سے زےادہ محبت ہے جتنی کہ تو اس سے کر تا ہے ۔ اس کے بعد کچھ زمانہ گذرا تھا کہ لڑکا مر گےا ۔ پھر وہ شخص آےا اور نہاےت غمگےن تھا ۔ حضرت نبی کرےم صلی اللہ علےہ وسلم نے ارشاد فرماےا کہ کےا تمہےں پسند نہےں کہ تمہارا لڑکا مےرے بےٹے ابراہےم کے ساتھ رہے او رعرش کے ساےہ مےں ساتھ کھےلا کرے اس نے عرض کےا کےوں نہےں ےا رسول اللہ صلی اللہ علےہ وسلم۔ فاطمہؓ کے مناقب مےں آپ کی اولاد کا ذکر آگے آےا ہے۔ برواےت انسؓ حضرت نبی صلی اللہ علےہ وسلم سے مر وی ہے کہ جب قےامت قائم ہو گی تو پکا ر ہو گی کہ اے مسلمانوں کے بچو ںاپنی قبروں سے نکلو، وہ اپنی اپنی قبروں سے نکل پڑےں گے پھر ندا ہو گی کہ تم لو گ جنت مےں چلے جاو¿ وہ کہےں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے والدےن بھی تو ہمارے ساتھ ہوں پھر دوبارہ ندا ہو گی کہ تم لو گ جنت مےں چلے جاو¿ وہ کہےں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے والدےن بھی ساتھ ہوں۔ پھر سہ بارہ ندا ہو گی کہ تم بھےڑ کی بھےڑ جنت مےں چلے جاو¿وہ کہےں گے کہ ہمارے رب ہمارے والدےن بھی تو ہمارے ساتھ ہوں ۔ پھر چوتھی بار ان سے کہا جائے گا کہ اچھا تمہارے والدےن بھی تمہارے ساتھ چلےں گے اس پر بچے اچھلتے ہو ئے اپنے ماں باپ کے پاس دوڑےں گے اور ان کو جنت مےں لے جائےں گے اور وہ سب اس دن اپنے ماں باپ کو تمہارے بچوں سے بھی جو تمہارے گھروں مےں رہتے ہےں زےادہ پہچانتے ہوں گے۔
حکاےت: حضرت اےو ب علےہ السلام پر جب کو ئی مصےبت آتی تو کہتے کہ اے اللہ آپ نے لے لےا اور آپ نے ہی عطا کےا تھا جب تک مےری جان مےں جان ہے مےں آپ کی بلا کی خوبی پر آپ کی حمد کئے جاو¿ں گا ۔حقائق مذکور ہے کہ خدا نے حضرت اےوبؑ کے پاس وحی بھےجی کہ اس بلا پرصبر کر نے کا ثواب جو مےں نے ستر نبےوں کو بتلاےا تو ان مےں سے ہر اےک درخواست کرنے لگا کہ مےں ہی اس مصےبت مےں مبتلا ہو تا مےں نے ان کو ےہ مرتبہ نہےں دےا بلکہ تمہےں ےہ تحفہ عناےت کےا ہے کہ دنےاو آخرت مےں لو گ تمہاری تعرےفےں کےا کرےں اور تم سنا کرو( ےعنی جےسا کہ خدا نے حضرت اےوبؑ کی نسبت فرماےا ہے) کہ ہم نے تو اس کو صابر پاےا ہے کےا اچھا بندہ ہے وہ ( ہماری طرف) بڑا رجوع کر نے والا ہے ۔ اےوبؑ عےص بن اسحاق بن ابراہےم کی اولاد مےں تھے بڑے عابد اور نہاےت مالدار تھے ۔ شےطان نے جب فرشتوں کو ان کی تعرےف کر تے سنا تو اس کو ان پر حسد پےدا ہو ا اور کہنے لگا کہ اگر ےہ فقےر ہوتے تو کبھی خدا کی عبادت نہ کر تے اور اگر خدا ان پر مجھے مسلط کر دےتا تو وہ ہر گز مطےع نہےں رہنے پاتے اس پر خدا نے اس کو ان کے مال پر مسلط کر دےا اس نے سب جلا ڈالا جب اےوبؑ کو ےہ خبر پہنچی تو کہنے لگے خدا کا شکر ہے کہ جس نے مجھے عطا کےا تھا اور اب مجھ سے لے لےا اس پر ابلےس بولا کہ اے رب مجھے ان کی اولاد پر مسلط کر دےجئے خدا نے اسے ان کی اولاد پر مسلط کردےا۔ اس نے ان کامحل جڑ سے ہلا ڈالا اور سب ہلاک ہو گئے اور وہ سب سے بڑے لڑکے کی کسی تقرےب مےں ضےافت کے لئے مجتمع تھے ۔ شےطان ان کے معلم کی صورت بن کرآےا اور اےوب ؑکو اس کی خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تجھ مےں کچھ بھلائی ہو تی تو تو بھی انہےں کے ساتھ ہلاک ہو جاتا اور بعض نے کہا ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ کاش مےں پےدا نہ ہو تا اس پر ابلےس خوش ہو کر آسمان پر چڑھ گےا وہاں جاکر دےکھتا کےا ہے کہ اےوبؑ کی توبہ اس سے پہلے پہنچ چکی ہے۔ پھر شےطان کہنے لگا اے رب مجھے ان کے بدن پر مسلط کر دےجئے خدا تعالیٰ نے مسلط کر دےا تو چےچک کی طرح ان کے بدن سے لپٹ گےا اور بدن سے پےپ کے فوارے چلتے تھے ۔ لو گوں نے ان کو شہر سے باہر نکال دےا اور سوائے قلب اور زبان کے ان کا تمام بدن کےڑوں نے کھا لےا ، ابلےس کو ان کے اس صبر سے بڑی حےرت ہو ئی ۔ پھر ان کی بی بی کے پاس رحمت کی خوش نما صورت بن کر نمودا رہو ا اور کہنے لگا کہ اےوب پر بلانہ آتی مگر انہوں نے خدا ئے آسمان کو تو سجدہ کےا اور خدائے زمےن کو سجدہ نہےں کےا ۔ وہ بو لےں کہ زمےن کا خدا کو ن ہے کہنے لگا مےں ہوںاگر تو مجھے اےک سجدہ کر لے تو ےہ بلا ان سے دور کردوں اور صحت لو ٹ آئے ۔ انہوں نے کہا ےوں نہےں جب تک مےں ان سے پو چھ نہ لوں۔ جب انہوں نے ان سے پو چھا تو وہ کہنے لگے کہ مےں تجھے بغےر سو کوڑے مارے ہو ئے نہ رہوں گا کےوں کہ تو نے اس سے ےہ کےوں نہےں کہا کہ زمےن و آسمان کا اےک ہی خدا ہے۔
امام رازی نے خدا تعالیٰ کے قول وجعلو للہ شرکاءالجن( ےعنی انہوں نے جنوں کوخدا کا شرےک ٹھہرا ےا ) کے متعلق بےان کےا ہے کہ اس قوم کی بابت نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ بےشک انسان او رنباتات کا خالق اللہ ہے او ر اچھے کام وہ کرتا ہے اور ابلےس سانپ بچھو، کےڑوں، مکوڑوں اور درندوں کو پےدا کر تا ہے ۔ خدا نے اس بارے مےں ےہ خلقھم( ےعنی خدا نے ان سب کو پےدا کےا ) کہہ کر ان کی تکذےب کر دی کےونکہ جب خدا سب کا خالق ٹھہرا تو کوئی مخلوق خالق کی کےسے شرےک ہو سکتی ہے۔
خےر پھر جب خدا کو اےوبؑ کی مصےبت کو دور کر نامنظور ہوا تو جبرائےل کو اےک انار اور اےک سےب دےکر بھےجا جب انہوں نے ان دونوں کو کھاےا تو سارے کےڑے جھڑ کر گر پڑے۔ پھر ان کوحکم ہوا کہ اپنا باےاں پےر زمےن پر مارےں ، انہوں نے تعمےل کی تو وہاں سے گرم اور سرد پانی نکلنے لگا ، ٹھنڈا پانی انہو ں نے پےا اور گرم سے نہائے پھر خدا نے ان کو بالکل تندرست کر دےا اب انہوں نے چاہا کہ اپنی بی بی کو کوڑے مار کر اپنی قسم پو ری کرےں ۔ خدا نے ان کی بی بی پر شفقت کر کے ان کو ےہ فتویٰ دےا کہ سےنکوں کامٹھا لے لےں ےعنی جس مےں سنبل کی جڑ کی سو سےنکےں ہو ں اسے مار کر قسم سے بری ہو جائےں ےہی مو من کی حالت ہے کہ دنےا مےں اس کو کچھ نہےں تو بخار ہی آجاتا ہے کےونکہ خدا نے دوزخ کے متعلق قسم کھائی ہے کہ تم مےں سے کو ئی اےسا نہےںجو اس پر وارد نہ ہو۔ اےک رواےت مےں ہے کہ سات برس سات مہےنے سات دن اور سات گھڑی وہ بلا مےں مبتلارہے تھے اور کلابازی نے ذکر کےا ہے کہ جب اےوب ؑکو صحت ہو گئی تو ان کے دل مےں اپنے صبر کرنے کا خےال آےاتو دس ہزار ابر کے ٹکڑوں کے اوپر سے دس ہزار آوازوںمےں ندا آئی کہ اے اےوبؑ تم نے صبر کےا ہے ےا ہم نے تمہےں صابر بنائے رکھا ۔ انہوں نے عرض کےا کہ اے رب آپ نے ہی مجھے صابر بنائے رکھا ۔ قرطبی نے اپنی تفسےر مےں کہا ہے کہ خدا نے ان کے پاس وحی بھےجی تھی کہ اگر مےں ہرہر بال کے نےچے صبر نہ رکھ دےتا تو تم کبھی صبر نہ کر سکتے ۔ پھر خدائے سبحانہ¾ نے اےک ابر بھےجا جو ان کے گھر کے برابر تھا اس سے تےن دن تک سونے کی ٹےڑےاں برستی رہےں ، جبرائےل ؑ نے پھر ان سے کہا کہ آپ آسودہ ہو ئے ےا نہےں ، انہوں نے جواب دےا کہ بھلا خدا کے فضل سے کس کو آسودگی ہو سکتی ہے ۔ پھراس کے بعد قرطبی نے تصحےح کی ہے کہ ان کی مصےبت کی مدت اٹھارہ برس تھی ۔ امام رازی نے سورہ¿ انبےاءمےں بےان کےا ہے کہ حضرت نبی کرےم صلی اللہ علےہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اےوبؑ اٹھارہ برس تک بلا مےں مبتلا رہے پھر بےان کےا ہے کہ ابلےس بھی اےوبؑ کے صبر سے چےخ اٹھا اس پر سارے شےطان اس کے پاس جمع ہو گئے اور پوچھنے لگے کہ تجھے کےا ہوا بو لا کہ اےوبؑ کے صبر سے عاجز آگےا ۔ وہ پو چھنے لگے کہ تےرا وہ مکرو فرےب کہ جس سے تو اگلوں کو ہلاک کر ڈالاکرتاتھا کہاں گےا ، وہ کہنے لگا کہ سارے کا سارااےوب ؑ کے پےچھے جاتارہا انہوں نے پو چھا کہ جنت سے آدم ؑ کو تونے کےسے نکالا تھا ا س نے کہا ان کی بی بی حوا کے سبب سے۔ ان سب نے کہا تو پھر اےوبؑ کو بھی ان کی بی بی کے ذرےعہ سے لے ڈال۔ چنانچہ وہ ان کی بی بی کے پاس گےا اور کہنے لگاکہ اےوب ؑ سے کہو اس بزغالہ کو بغےر خدا کانام لئے ہوئے ذبح کر ڈالےں تو ابھی اچھے ہو جائےں وہ حضرت اےوبؑ کے پاس اسے لے کر آئےں اور جےسے شےطان نے ان سے کہا تھا وےسے ہی انہوں نے حضرت اےوبؑ سے کہا کہ اس بزغالہ کو بغےر خدا کا نام لئے ہو ئے ذبح کر ڈالئے۔ انہو ں نے پوچھا بھلا بتاو¿ تو ہم نے آسائش و آرام سے کتنی مدت تک عےش کےا ہو گا ۔انہوں نے جواب دےا اسی برس تب اےوب ؑ نے کہا جےسے ہم نے آسائش مےں گذاری ہے اسی طرح جب تک ہم اسی برس تک صبر نہ کرلےں اس وقت تےرا اےسی بات کر نا خدا کے حضور مےں انصاف نہےں ہوسکتا او راگر مجھے خدا نے شفا عطا کردی تو مےں تجھے ضرور سوکوڑے ماروں گا ۔ واللہ اعلم
امام غزالیؒ نے کہا ہے کہ انسان مےں تےن سو ساٹھ جو ڑ ہوتے ہےں او رہر جوڑ کوبخار سے تکلےف پہنچتی ہے پس ہر ہر جوڑ کے عوض مےں بندہ کے اےک اےک روز کے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے اوربعض نے کہا ہے کہ اطباءکے نزدےک اےک روز کا بخار اےک سال کی قوت زائل کر دےتا ہے ۔حضرت نبی کرےم صلی اللہ علےہ وسلم سے مروی ہے کہ جس کو تےن گھڑی کے لئے بخار آجائے اور وہ حمد و شکر بجالاتا رہے اورصبر کرے تو خدا تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اس پر فخر کر تا ہے اور ارشاد کر تا ہے کہ اے فرشتوں مےرے بندہ کو اور بلا پر اس کا صبر کر نا دےکھو اور دوزخ سے اس کی نجات ےابی لکھ لو۔ فرشتے اس طرح سے لکھ لےتے ہےں ۔ بسم اللہ الرحمن الرحےم ےہ خدائے عزےزو حکےم کی جانب سے فرمان ہے اور اللہ کی جانب سے اپنے فلاں بندہ کے لئے برات و نجات کا پروانہ ہے کہ مےں نے دوزخ سے تجھے پناہ دی او رجنت کو تےرے لئے واجب کر دےا ،سلامتی کے ساتھ اس مےں داخل ہو جا۔
طبرانی مےں حضرت نبی کرےم صلی اللہ علےہ وسلم سے رواےت ہے کہ جو شخص تےن روز بھی مرض مےں مبتلا رہے وہ گناہوں سے اےسے نکل آتا ہے گوےا آج ہی اپنی ماں کے پےٹ سے پےدا ہوا اور حضرت نبی کرےم صلی اللہ علےہ وسلم نے فرماےا ہے کہ جو بےماری کی حالت مےں مر تا ہے وہ شہےد مر تا ہے اورفتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے اور صبح و شام جنت سے اس کی روزی اسے عناےت ہو تی رہتی ہے ۔ اس کو ابن ماجہ نے رواےت کےا ہے ۔ حضرت نبی کرےم صلی اللہ علےہ وسلم نے فرماےا ہے کہ مرےض جب تک مرےض رہتا ہے خدا کا مہمان ہے ،خدا تعالیٰ اس کو روزانہ ستر شہےدوں کے عمل عناےت فرما کر اس کا مر تبہ بلند فرماتا رہتا ہے اور آپ نے فرماےا جب خدا اسے عافےت عناےت فرماتاہے تو وہ گناہوں سے اےسے نکل آتا ہے گوےا آج ہی اپنی ما ں کے پےٹ سے پےدا ہوا اور حضرت نبی کرےم صلی اللہ علےہ وسلم نے فرماےا ہے کہ کھانے کے لئے اپنے مرےضوں پر زبر دستی نہ کرو کےو ں کہ خدا تعالیٰ ان کو کھانا کھلاتا پلاتا رہتا ہے ۔ اس کو ابن ماجہ اور ترمذی نے رواےت کےا ہے ۔ احےاءالعلوم مےں حضرت نبی کرےم صلی اللہ علےہ وسلم مروی ہے کہ خدا کی حق شناسی اور اس کی عظمت او ر جلال قائم رکھنے مےں ےہ بھی داخل ہے کہ تم اپنے درد کی نہ شکاےت کرو نہ اپنی مصےبت بےان کرو۔

22nd Sep 2008, 02:44 am.
         
 
بہن کے عاشق کو قتل کر کے آنگن مےں دفن کر دےا
22-Sep-2008, 02:45 AM
عوامی عدالت
22-Sep-2008, 02:42 AM
اندھیر نگری چوپٹ راج
22-Sep-2008, 02:41 AM
زکوٰ ة دینے کے نام پر درجنوں معذور اپاہج مرد خواتین کو لوٹ لیا
22-Sep-2008, 02:39 AM
ڈنکے کی چوٹ پر دہشت گردی کابازار گرم پھر بھی تحقیقاتی ایجنسیوں کا رخ یکطرفہ
22-Sep-2008, 02:37 AM
اےک عےاش قاتل جس نے ۳۶، بچےوں ،لڑکےوں اور دو بچوں کو ہوس کانشانہ بناےا
16-Sep-2008, 02:23 AM
راج ٹھاکرے کو گھےرنے کی تےاری
16-Sep-2008, 02:22 AM
پولےس کی وردی مےں بھوکے بھےڑئےے....پولےس والوں کی درندگی کا شکار
16-Sep-2008, 02:18 AM
اگرعلماءمفتیان اور مسلم ڈاکٹرس و انجینئروں کو ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے تو
08-Sep-2008, 02:02 AM
مالیگاﺅں بم دھماکوں کے بعد
08-Sep-2008, 02:01 AM
وحشی درندہ صفت انسان کی رونگٹے کھڑے کردےنے والی داستان
08-Sep-2008, 01:58 AM
مسلم علاقوں میں بم دھما کہ ملزمین کی تلاشی!
08-Sep-2008, 01:55 AM
انصاف کے حصول کے لئے سرکار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں
01-Sep-2008, 01:51 AM
بچہ مزدروی
01-Sep-2008, 01:39 AM
سرکاری اور نےم سرکاری اداروں مےں Give & Take کا فارمولا
01-Sep-2008, 01:38 AM
 
 
 
Search
       
  کون سنے مری نوا تےز ہوا کے شور مےں  
  آپ اپنے باپ داد ا کی ڈھائی سو کروڑ  
  ہندوستان میں سفےد پوش چوروں کی چاندی  
  شرم تم کو مگر نہےں آتی !  
  اب مائی نےم از خان پارٹ ٹو  
  بہن کے عاشق کو قتل کر کے آنگن مےں دفن کر دےا  
  مصےبت، صبر اور رضا  
  عوامی عدالت  
  اندھیر نگری چوپٹ راج  
  زکوٰ ة دینے کے نام پر درجنوں معذور اپاہج مرد خواتین کو لوٹ لیا  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  ڈی اےن اے تخلےق الٰہی کا کرشمہ  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ  
  مالی نقصانات سے ہم بےمار ہو سکتے ہےں  
  اور راز کھل گیا!  
  خدادیکھ رہا ہے  
  دھنک کی کہانی  
  اورپری ناراض ہوگئی  
  ”کالو زندہ باد“  
  ٭تھانے مےونسپل کارپورےشن کے محکمہ حفظان صحت مےں مواقع  
  آخر AMIEگرےجوےٹ لےول فارمل اےجوکےشن کےا ہے؟  
  ہندوستان میں پریمیئر کالج میں حصہ داری  
  مہنگی تعلےم نے مستحق طلبا ءکے ارمانوں کا گلا گھونٹ دےا  
  بےنک آف بڑودہ کو کلرکوں کی ضرورت  
  قصر سفید میں مرد سیاہ....  
  فرقہ پرستی ‘ ڈاکہ وقتل جیسا جرم کیوںنہیں ؟  
  اُمت مسلمہ کے مسائل  
  ادائیگیِ نماز: آداب و احکام  
  بیت المقدس ....کسی ایوبی کے انتظار میں  
  ام المومنےن حضرت عائشہ ؓ  
  خوبصورت لباس اور خوبصورت نظر آنا ہر خاتون کی خواہش  
  رمضان المبارک اور خواتےن کے شب وروز  
  زینب سلیم ڈار  
  ماہ صےام مےں خصوصی پکوانوں کا اہتمام کرےں!  
 
 
 
Home | National News | Regional News | Mumbai News | World News | Islamic World | Aaj Kal | Analysis | Editorial | Entertainment | Sports | Contact us | Privacy Policy
Copyright © Roznama Urdu Times Mumbai | All Rights Reserved.
Site devloped by UNN IT