Wednesday, September 08, 2010, 11:30:29 PM Download Font  |   Urdu Keyboard  |   On-Screen Keyboard  
The Urdu Times Daily, Mumbai
Home Aaj Kal Analysis Editorial Entertainment Sports News Mumbai News Regional News Islamic News World News National News
         
  فرید تناشہ شوٹ آﺅٹ

متےن حفےظ:
ممبئی انڈر ورلڈ میں ایک باب کا خاتمہ
۲ جون بروز بدھ کو چھوٹا راجن گینگ کے اہم ممبر فرید تناشہ کو اس کے گھر میں گھس کر پانچ نامعلوم افراد نے گولیوں سے بھون ڈالا۔ فرید چھوٹا راجن گینگ کا ایک انتہائی مضبوط اور چالاک ممبر سمجھا جاتا تھا۔فرید ۱۹۹۰ءکی دہائی سے انڈر ورلڈ میں سرگرم تھا اور اس کی شروعات داﺅد ابراہیم گینگ کے ایک معمولی کارندے کے طور سے ہوئی تھی، ان دنوں داﺅد اور راجن کے تعلقات بھی بہت اچھے سمجھے جاتے تھے، مگر داﺅد ابراہیم گینگ سے راجن کے الگ ہوتے ہی فرید نے راجن کا ہاتھ تھام لیا۔۹۰ءکی دہائی کے اوآخر میں فرید روپوش ہوگیا اور اُسے بالاخر ۲۰۰۵ءمیں آئی بی کے لوگوں نے دہلی میں واقع پنچ شیل علاقے سے پکڑ کر ممبئی کرائم برانچ کے حوالے کردیا۔ فریددراصل جہاں چھوٹا راجن گینگ کے لئے کام کرتا تھا وہیں وہ آئی بی کا ایک خفیہ ایجنٹ بھی تھا۔ فریدنے اپنے ایک پریس انٹرویو میں ایک مرتبہ کہا تھا کہ وہ داﺅد ابراہیم کو جان سے مارڈالنا چاہتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ آئی بی سے بہت قریب ہوگیا تھااور داﺅد گینگ کی معلومات خفیہ طریقے سے پولس تک بھی پہنچاتا تھا۔ جب فرید کو نیپال میں موجود داﺅد گینگ کے ایک ممبر مرزا بیگ کو جان سے مارنے کی سپاری ملی تو فریدنے نیپال جاکر اس کام کو بخوبی انجام دیا۔ فرید کے خلاف کل۹ کیس پولس کی فائلوں میں درج ہیں۔ ۲ جون کی رات کو فرید اپنی دوسری بیوی ریشما اور ایک بیٹی کے ساتھ گھر پر آرام کررہا تھااس کے باڈی گارڈ کھانا کھانے کے لئے باہر گئے ہوئے تھے اور فرید کی بیوی اس کے پیر میں تیل کی مالش کررہی تھی جب نامعلوم حملہ آوروںنے گھر میں گھس کر اُس پر گولیوں کی بوچھار کی، جہاں اس کی ۳سالہ بیٹی خوف کے مارے چلانے لگی وہیں اس کی بیوی اس صدمے سے دوچارہوئی کہ اُس کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکل سکا۔ جب تک پولس کو خبر ہوتی فرید زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا تھا۔ فریدکی موت کے چند گھنٹون بعد ہی ایک گینگسٹر بھرت نیپالی نے میڈیا کے کچھ لوگوں کو فون کرکے فرید کا قتل کرنے کا کریڈٹ لیا۔ بھرت نیپالی وہی شخص ہے جس نے ایڈوکیٹ شاہد اعظمی کو جان سے مارنے کی سپاری دی تھی۔ فرید کے قتل کے بعد بھرت نیپالی نے میڈیا والوں کو فون پر یہ بتایا کہ پچھلے کچھ دنوں سے فرید داﺅد ابراہیم گینگ سے قریب ہوتا جارہا تھا اور اسی لئے اُسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ پولس اب بھرت نیپالی کے ڈی آئی ڈی نمبر 98382468XX کو ریکارڈ کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ بھرت نیپالی کی لوکیشن کا پتہ لگایا جاسکے۔۲۰۰۵ءمیں جب فرید کو گرفتار کیا گیا تو اُسے ممبئی کی آرتھرروڈ جیل منتقل کیا گیا اور اُس کے بعد فرید نے جیل کے اندر ٹوٹی پھوٹی اور بکھری ہوئی چھوٹا راجن گینگ کو دوبارہ منظم کرنا شروع کیا اس کام میں راجن گینگ کے دوسرے ممبر ڈی کے راﺅ کی مدد سے ختم ہوتی راجن گینگ کو ایک نئی زندگی عطا کردی۔ ۹کیسوں میں سے ۶کیسوں میں فریدکو عدالت نے ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے رہا کردیا جبکہ تین کیسوں میں مقدمات عدالت میں چل رہے تھے اور اسی دوران فرید کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔گذشتہ دنوں فرید کا نام میڈیا میں ایک بار پھر سے آیا تھااور یہ موقع تھاممبئی کے ایک بیئربار میں پولس اور گینگسٹروں کی ملی جلی کرسمس پارٹی کا۔ اس پارٹی میں پانچ پولس افسران جن میں ایک اسٹنٹ کمشنر آف پولس اور ایک ڈپٹی کمشنر آف پولس بھی موجود تھے۔ یہ ڈپٹی کمشنر وی این سالوے ممبئی پولس کی انٹیلی جنس برانچ میں تعینات تھا، اس پارٹی کی باقاعدہ موبائیل شوٹنگ بھی کی گئی تھی اور خاموشی سے اس موبائیل کلیپنگ کو میڈیا میں لیک کردیا گیا تھا۔ میڈیا نے اس معاملے کو بہت زیادہ اُچھالا اور جم کر محکمہ پولس پر چوٹ کی نتیجتاً پولس کمشنر نے ان پانچوں ہی پولس والوں کو ، جو پارٹی میں موجود تھے، معطل کردیا۔ کچھ خبریں ایسی بھی تھیں کہ یہ پارٹی فرید نے ہی بلائی تھی اور موبائیل شوٹنگ بھی فرید نے ہی میڈیا کو لیک کی تھی۔ اس شوٹنگ میں ڈی کے راﺅ، فرید تناشہ اور پولس والوں کو ساتھ میں شراب پی کر ڈانس کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس معاملے کی شروعاتی تحقیقات ڈی سی پی ملند بھارنبے نے کی اور اپنی رپورٹ میں انھوں نے لکھا کہ پولس والے قصوروار پائے گئے ہیں۔ ملند بھارنبے کو ناسک اور مالیگاﺅں کا ایس پی بناکر ٹرانسفر کردیا گیا ہے۔فرید تناشہ ایک انتہائی غصور انسان تھا اور آرتھر روڈ جیل میں منتقل کیئے جانے کے چند ہفتوں بعد ہی ایک روز فرید جب جیل کے ہاسپیٹل سے واپس ہورہا تھا تب اس کی ہاتھا پائی داﺅد گینگ کے ایک ممبر سلیم کتا سے ہوگئی، دیکھتے ہی دیکھتے یہ معمولی جھگڑا ایک گینگ وار میں تبدیل ہوگیا اور دونوں طرف سے اینٹیں چلنے لگیں یہ اینٹیں جیل میں مرمت کے کام کیلئے لائی گئیں تھیں۔ اس گینگ وار میں نہ تو داﺅد ابراہیم گینگ کا کوئی ممبر زخمی ہوا اور نہ ہی چھوٹا راجن کا، مگر پولس کے پانچ حولداروں کے سروں پر اینٹیں پڑنے سے شدید زخم آئے اور انھیں اسپتال میں بھرتی کرنا پڑا تھا۔ فرید تناشہ جہاں انڈرورلڈ کا ایک اہم رکن تھا، وہیں وہ آئی بی کے لئے بھی کام کرتا تھا۔ فرید کی موت کے ساتھ ہی انڈرورلڈ کے اہم باب کا خاتمہ ہوگیا ہے۔


انڈےن مجاہدےن پر پھندا کس تو گےا مگر
٭ شکیل رشید
بالآخر ’انڈین مجاہدین ‘کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیاگیا ۔
مرکزی حکومت نے جمعہ ۴جون کو مذکورہ فیصلہ کیا۔ اُس روز جب ممبئی اور مہاراشٹر سمیت سارے ملک کے مسلمان اور حقوق انسانی کے کار کنان ‘ فلسطینیوں اور دنیا بھر کے امدادی کارکنوں کے خلاف اسرائیلی دہشت گر دی کی مذمت اور حکومت ہند سے اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ اس فیصلہ سے ایک روز قبل سی بی آئی نے مکہ مسجد بم دھماکہ کے سلسلہ میں گرفتار’ ہندو توو ادی دہشت گردوں ‘ سے پوچھ تاچھ کا اعلان کیاتھا ، اور ا س سے بھی قبل جب ملک بھر کے مختلف بم دھماکوں میں ملو ث ہونے کے سلسلہ میں ابھینو بھارت ‘ سناتن سنستھا اور سنگھ پریوار کی کئی دیگر ذیلی تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیاجا رہاتھا تب حکام نے یہ کہہ کر اپنا پلہ جھاڑ لیاتھا کہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی’ سفارش ‘ یا ’ تجویز ‘ موصول نہیں ہوئی ہے ۔ ’ انڈین مجاہدین ‘ کو دہشت گرد قرار دینے والے حکام بھلا کیوں اسرائیل کو دہشت گرد نہیں مانتے اور بھلا کیوں ’ ابھینو بھارت‘ اور ’سناتن سنستھا ‘ جیسی شدت پسند ہندو تنظیموں پر پابندی عائد نہیں کرتے ؟ یہ وہ سوال ہے جو کل بھی لوگوں کے ذہنوں کوپریشان کرتا رہاہے اورآج بھی پریشان کر رہاہے.... اس سوال پر غور کرنے سے قبل ’ انڈین مجاہدین ‘ کی حقیقت پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے ۔ ’ انڈین مجاہدین ‘ نام پہلی بار ’جے پور دھماکوں ‘ کے سلسلے میں سامنے آیا‘ اسکے بعد گذشتہ پانچ برسوںمیں ملک بھر میں جوبم دھماکے ہوئے ‘ پونے کی جرمن بیکری سمیت ‘ سیکو ریٹی ایجنسیوں کاماننا ہے کہ سب میں ’ انڈین مجاہدین ‘ کا ہاتھ رہا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے ’انڈین مجاہدین‘ کو ’ سیمی ‘ اور ’ لشکر طیبہ ‘ کا دوسرا روپ قرار دیا ہے .... کہا جاتا ہے کہ گو دھرا سانحہ کے بعد گجرات کے مسلم کش فسادات کا انتقام لینے کیلئے ’ انڈین مجاہدین ‘ کا قیام عمل میں آیاتھا .... پونے بم دھماکہ کے بعد جب اس سے ’ انڈین مجاہدین ‘ کانام جڑا تب وزارت داخلہ کے سیکریٹری جی کے پلئی کا بیا ن آیا کہ حکومت کا انڈین مجاہدین پر پابندی لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے .... ۱۳ مئی ۲۰۰۸ءکے جے پور بم دھماکوں کے بعد ’ انڈین مجاہدین ‘ نے ایک ای میل کے ذریعے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی ۔ یہ ای میل دہلی کے ایک علاقہ صاحب آباد سے مو صول ہواتھا۔ اس ای میل میں دھمکی دی گئی تھی کہ ملک بھر میں جے پور کی طرح بم دھما کے کئے جائیں گے .... پھر احمد آباد ، بنگلور، سورت اور دہلی کے بم دھماکوں کے بعد ’ انڈین مجاہدین‘ نے یا تو ای میل کے ذ ریعے یا پھر ٹیلی فون کے ذریعے دھماکوں کی ذمہ داریاں قبول کیں اور سارے ملک میں’ انڈین مجاہدین ‘ کا نام دہشت کی علامت بن گیا .... ’ انڈین مجاہدین ‘ کے سلسلہ میں پہلی گرفتاری اعظم گڑھ میں کی گئی .... مفتی ابوالبشر کی گرفتار ی کے بعد گجر ات کے ڈاکٹر جنرل آف پولس پی سی پانڈے نے یہ اعلان کیا کہ ’ انڈین مجاہدین ‘ اصلا ً ’ سیمی ‘ کا تبدیل شدہ نام ہے .... واضح رہے کہ یہ وہی پی سی پانڈے تھے جن پر گجرات فسادات کے دوران گلبرگ ہاو¿سنگ سو سائٹی کے قتل عام کو روکنے کی کوئی کوشش نہ کرنے کا الزام ہے ۔ پانڈے کے بقول ’سیمی ‘ (SIMI) سے ابتدا کا ’ ایس ‘ اورآخر کا’آئی ‘ نکا ل کر ’ انڈین مجاہدین ‘ (IM) بنا یاگیا ہے۔ مفتی ابو البشر کے علاوہ ممبئی کے ایک سافٹ ویئر انجینئر عبد السبحان عرف توقیر کو’ انڈین مجاہدین ‘ کا سربراہ بتایا گیا ۔ اس کے بعد ملک بھر میں ’ انڈین مجاہدین ‘ کے نام پر گرفتا ریوں کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ آج تک جاری ہے .... دہلی کے بٹلہ ہاو¿س انکاو¿نٹر (۲۰۰۸ء) کو بھی ’ انڈین مجاہدین ‘ کے خلاف کارروائی کہا جارہا ہے۔ اس انکا و¿نٹر میں جسے فرضی انکاو¿نٹر بھی کہا جاتا ہے دونوجوان عاطف امین اور محمد ساجد مارے گئے تھے .... ’ انڈین مجاہدین ‘ سے تعلق کے ہی الزام میں یو پی سے حکیم محمد طارق قاسمی ‘ محمد خالد مجاہد ‘ شہبا ز حسین اور مدھیہ پردیش سے ’ سیمی ‘ کے سابق جنرل سیکریٹری صفدر ناگوری سمیت متعدد افراد کو دھر دبو چا گیا .... ’ انڈین مجاہدین ‘ کو حیدرآباد‘ یوپی کی تےن عدالتوں اور سنکٹ موچن مندر میں ہوئے دھماکوں کا ذمہ دار بھی قرار دیا گیا نیز ۲۰۰۵ء کے شرم جیوی ایکسپریس دھماکے کاقصوار بھی گردانا گیا.... اوراب ’ پونے بم بلاسٹ‘ میں بھی انڈین مجاہدین کانام ملو ث ہوگیا ہے.... واضح رہے کہ ’ پونے بم بلاسٹ ‘ سے بہت پہلے پولس نے ستمبر ۲۰۰۸ء میں ہی پونے میں ’ انڈین مجاہدین ‘ کا سراغ ©لگایاتھااوروہاں سے ۲۱ نوجوان اس تنظیم سے تعلق کے سلسلے میں گرفتار کئے گئے تھے ۔ یہ سب کے سب انتہا ئی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور معزز گھرانوں کے چشم و چراغ ہیں .... تازہ صورت حال یہ ہے کہ سارے ملک میں ’ انڈین مجاہدین ‘ کے نام پر بے دھڑک گرفتاریاں جاری ہیں ‘ سب سے زیادہ متاثر یو پی کا ضلع اعظم گڑھ ہے .... اور اب ’ انڈین مجاہدین ‘ کو ’ دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیئے جانے کے بعد یقینا گرفتاریوں کاسلسلہ تےز ہوجائے گا۔ حکام ہر اس فرد کی املا ک کوقرق کر سکیں گے جس پر’ انڈین مجاہدین ‘ سے تعلق کا الزام ہوگا۔ جو منظر نامہ ابھر کر سامنے آرہا ہے اسے دیکھ کر اگر یہ کہاجائے کہ مستقبل میں بڑے پیمانے پر مسلم نوجوان گرفتار کئے جائیں گے ‘ تو غلط نہیں ہوگا .... گرفتار ہونے والوں میں قصورواروں کے ساتھ بے قصور بھی ہوں گے کیوں کہ گیہوں کے ساتھ گھن پستے ہی ہیں ۔
’ انڈین مجاہدین ‘ کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ اس کا قیام ’ گجرات کے مسلم کش ‘ فسادات کا انتقام لینے کیلئے عمل میں آیاتھا .... حالانکہ ’ سیمی ‘ کے سابق کل ہند صدر ’ ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کی اگر مانی جائے تو ’ انڈین مجاہدین ‘ ایک فرضی تنظیم ہے اور انٹلی جنس بیورو (آئی بی ) کی پیدا وار ہے اور اس کا مقصد ملک بھر کے مسلم نوجوانوں کو فرضی معاملات میں پھنسانا ہے ۔ حقیقت جو بھی ہو ‘ بہرحال یہ ایک سچائی ہے کہ ’ انڈین مجاہدین ‘ کے گرفتار شدگان کے خلاف آج تک ٹھو س ثبوت پیش نہیں کئے جاسکے ہیں ‘ عا طف امین اور محمد ساجد کے بٹلہ ہاو¿س انکاو¿نٹر پر آج تک سوالیہ نشان لگا ہوا ہے ، بٹلہ ہاو¿س میں ہی ایک پولس افسرموہن شرما کی ہلاکت بھی ہنوز پر اسرار بنی ہوئی ہے ‘ اسی طرح یوپی میں حکیم محمد طارق قاسمی اور محمد خالد مجاہد کو گرفتار کرنے میںپولس نے جو غیر قانونی حرکتےں کی ہیں وہ بھی مقدمے کے دوران سامنے آتی جارہی ہےں ’اِدھرپونے کے گرفتار شدگان کے والدین اب تک یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ ان کے بچوں کو پولس نے دانستہ پھنسایا ہے ‘ پولس بالخصوص اے ٹی ایس کے سربراہ راکش ماریا ‘ ابھی بھی انکے خلاف ٹھوس مقدمہ بنانے میںلگے ہوئے ہیںیہ۔ راکیش ماریا ہی تھے جنہوں نے کرائم برانچ کے سربراہ کی حیثیت سے پونے کی گرفتاریاں کی تھیں .... اب مختلف حلقوںسے یہ آواز بھی اٹھنے لگی ہے کہ ملک بھر کے دھماکوں میں ‘ہندوتووا دی دہشت گرد تنظیموں ‘ بالخصوص آر ایس ایس کے اجاگر ہوتے چہرے پر واپس پردہ ڈالنے کیلئے ’ انڈین مجاہدین ‘ کو ایک بڑی دہشت گرد تنظیم کے روپ میں سامنے لایا گیا ہے .... ہندو دہشت گرد ی تو بہت پرانی ہے مگر ۶ دسمبر ۱۹۹۲ءکو بابری مسجدکی شہادت نے اس کے مکرو چہر ہ کو پوری طرح سے اجاگر کردیاتھا ۔ اس کے بعد۱۹۹۳ءمیں مراٹھواڑہ کی محمدیہ مسجد کے بم دھماکہ سے لے کر حال ہی کے ’ گوا‘ اور پونے بم بلاسٹ تک تقریباً ۱۶ بم دھماکوں میںہند و شدت پسند تنظیموں کا نام سامنے آیا ہے‘ مگر مرکزی اور ریاستی حکومتوں سمیت میڈیا اور تحقیقاتی ایجنسیوں نے اس کھلی اور واضح حقیقت پر سوائے پردہ ڈالنے اور الزامات مسلمانوں پر عائد کرنے کے ‘ کچھ نہیں کیاہے .... مالیگاو¿ں بم بلاسٹ میںسادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی گرفتاری کے بعد اے ٹی ایس کے آنجہانی سربراہ ہیمنت کرکرے نے ’ ہندو دہشت گرد ی ‘ کے چہرہ کو ’ بے نقاب ‘کرنے کا سلسلہ شروع کیاتھا .... کرنل پروہت کی گرفتاری کے بعد اس میں تےزی بھی آئی تھی ‘ خبر تھی کہ ہیمنت کرکرے جلد ہی ہندو دہشت گردی کی چند ’بڑی مچھلیوں ‘ پر پھند ا کسنے والے ہیں مگر ۱۱۲۶ کے سانحے میں وہ ’پر اسرار ‘ طور پر ہلا ک ہوگئے .... اسکے بعد ’ ہندو دہشت گردی ‘ کا چہرہ پھر دھیرے دھیرے چھپنے لگا....حالانکہ گوا کے بم دھماکوں میں ’ سناتن سنستھا ‘ کانام سامنے آیا اورحال ہی میں راجستھان اے ٹی ایس نے اجمیر شریف درگاہ اورمکہ مسجد بم دھماکوں کے سلسلے میں کئی ہند ودہشت گر دوں کو گرفتار کیا ‘ مگر اب تک ہندو دہشت گرد تنظیموں پر’ پابند ی ‘ تو دور ان کی سرگرمیوں پر ’ نظر ‘ رکھنے کیلئے بھی کوئی اقدام نہیں کیا گیاہے۔ اے ٹی ایس اور سی بی آئی نے بہار کے مظفر پور اور مدھیہ پردیش کے شا ج پور سے بالترتےب دیو یندر گپتا اور چند ر شیکھر کو گرفتار کیا ۔اوالذکر تمام ہند وتنظیموں کی جنم داتا’ آر ایس ایس ‘ کا ’ پرچارک ‘اور دوسرا ’ ابھینو بھارت ‘ کا رکن ہے .... ان پر ’مکہ مسجد‘ اور ’ اجمیر شریف درگارہ ‘ کے بم دھماکوں میں ملو ث ہونے کا شبہ ہے ۔ یہاں یہ بتا نا ضروری ہے کہ ’جرمن بیکری بلاسٹ ‘ کے بعد اس سلسلے میں ’ہندو تنظیموں ‘ کی چھان بین کابھی ایک اعلیٰ پولس اہلکار نے اعلان کیاتھا ‘ مگر مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے اس کی سرزنش کرکے اس کی زبان پر بعد میں تالا لگا دیا.... اب ’ پونے بلاسٹ ‘ میں ہندو تنظیموں کا نام تک نہیں لیا جارہا ہے .... اسے ’ انڈین مجاہدین‘ کی کا رستانی قراردے دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں عبد الصمد بھٹکل نامی ایک نوجوان کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے ‘ یہ اور بات ہے کہ یہ گرفتاری اب خود اے ٹی ایس کیلئے پریشانی کا سبب بن گئی ہے .... اجمیر ‘ مالیگاو¿ں ‘ مکہ مسجد‘گوااورسمجھوتہ ایکسپریس ‘بم دھماکوں میں کئی ہندو تنظیموں کے نام سامنے آئے ہیں اور کئی ہندو دہشت گرد ان دھماکوں کے لئے مطلوب ہیں ‘ جن میںگجرات کا ایک دھرم پرچارک سوامی اسیما نند بھی ہے ’ رام جی کا لسنگر ‘ سندیپ ڈانگے‘ پروین متالک‘بھگوان ‘ سارنگ کلکرنی ‘ پرشانت جو ئیکر ‘جے پرکاش عر ف انا ‘ اردرا انا پاٹل اور پر شانت اشٹیکر آج تک پولس کی گرفت میں نہیں آئے ہیں‘ ان میں سے دو سارنگ کلکرنی اور پرشانت جوئیکر کانام پونے جرمن بیکری بلاسٹ کے سلسلے میں بھی مشتبہ ہے .... آرا یس ایس کا ’کردار ‘ پوری طرح سے اجاگر ہوگیا ہے ۔اس کے پرچارک گرفتار ہوئے ہیں ۔ آرا یس ایس نے خود کو بچانے کیلئے ان سب سے اپنا پلّہ جھاڑ نے کی کوشش کی ہے مگر گاندھی جی کے قتل سے لے کر حالیہ بم دھماکوں تک اس کے دامن پر اتنے داغ ہیں کہ انہیں صاف کرنا ممکن نہیں ہوگا.... ان ہندو تنظیموں کے دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ملک اسرائیل سے تعلقات بھی واضح ہوچکے ہیں ۔ ابھینو بھارت اور سناتن سنستھا کے گرفتار شدگان نے اسرائیل سے ’ فوجی امداد ‘ کا اعتراف کیاہے ۔ اسرائیل کی مدد سے ’ ہندو راشٹر‘ کے قیام کی تفصیلات بھی ظاہر ہوچکی ہےں۔ بھلا ہندوستان کیوں ان ہندو دہشت گر د تنظیموںپرپابندی نہیں لگاتا اور بھلا کیوں اسرائیل سے تعلقات منقطع نہیں کرتا ....؟ کیا یہ سمجھا جائے کہ صرف اس لئے ان تنظیموں اور اسرائیل سے نرمی برتی جارہی ہے کہ یہ مسلمانوں کی دشمن ہیں ؟ اور دنیا کی بڑی طاقتوں سرمایہ دار وں اور صہیونی مقتدرہ نے عالم اسلام کے خلاف جو ’ گرینڈ گیم پلان ‘ بنا رکھا ہے اس میں اہم کردار ادا کررہی ہیں ؟؟ ٭٭

5th Jun 2010, 01:17 pm.
         
 
کون سنے مری نوا تےز ہوا کے شور مےں
21-Aug-2010, 02:41 PM
آپ اپنے باپ داد ا کی ڈھائی سو کروڑ
21-Aug-2010, 02:41 PM
ہندوستان میں سفےد پوش چوروں کی چاندی
21-Aug-2010, 02:40 PM
شرم تم کو مگر نہےں آتی !
21-Aug-2010, 02:37 PM
اب مائی نےم از خان پارٹ ٹو
21-Aug-2010, 02:37 PM
یو پی اےII کا حال بُرا ہے!
07-Aug-2010, 01:54 PM
ترقی کے جنگل مےں
07-Aug-2010, 01:53 PM
سرکار نہےں صرف عدالتےں مسلمانوں کو انصاف دلا سکتی ہےں
07-Aug-2010, 01:52 PM
کےسے اور کےوں ےو پی اے IIکی منموہن سرکار پر بھروسہ کےا جائے ؟
07-Aug-2010, 01:51 PM
مسلمانوں کو ےا ہندوو¿ں کو ؟
02-Aug-2010, 03:19 PM
اےک امےت شاہ تو گرفتار ہوا
02-Aug-2010, 03:18 PM
مرا قاتل وزیر داخلہ ہے
02-Aug-2010, 03:18 PM
آدی باسےوں اور دلتوں پر مظالم بنام ترقی
02-Aug-2010, 03:18 PM
پولس حراست مےں اموات اصل مرض کیا ہے؟
02-Aug-2010, 03:17 PM
گجرات سرکار فرضی مڈبھےڑ کے معاملے چھپاتی پھررہی ہے
02-Aug-2010, 03:17 PM
 
 
 
Search
       
  کون سنے مری نوا تےز ہوا کے شور مےں  
  آپ اپنے باپ داد ا کی ڈھائی سو کروڑ  
  ہندوستان میں سفےد پوش چوروں کی چاندی  
  شرم تم کو مگر نہےں آتی !  
  اب مائی نےم از خان پارٹ ٹو  
  بہن کے عاشق کو قتل کر کے آنگن مےں دفن کر دےا  
  مصےبت، صبر اور رضا  
  عوامی عدالت  
  اندھیر نگری چوپٹ راج  
  زکوٰ ة دینے کے نام پر درجنوں معذور اپاہج مرد خواتین کو لوٹ لیا  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  ڈی اےن اے تخلےق الٰہی کا کرشمہ  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ  
  مالی نقصانات سے ہم بےمار ہو سکتے ہےں  
  اور راز کھل گیا!  
  خدادیکھ رہا ہے  
  دھنک کی کہانی  
  اورپری ناراض ہوگئی  
  ”کالو زندہ باد“  
  ٭تھانے مےونسپل کارپورےشن کے محکمہ حفظان صحت مےں مواقع  
  آخر AMIEگرےجوےٹ لےول فارمل اےجوکےشن کےا ہے؟  
  ہندوستان میں پریمیئر کالج میں حصہ داری  
  مہنگی تعلےم نے مستحق طلبا ءکے ارمانوں کا گلا گھونٹ دےا  
  بےنک آف بڑودہ کو کلرکوں کی ضرورت  
  قصر سفید میں مرد سیاہ....  
  فرقہ پرستی ‘ ڈاکہ وقتل جیسا جرم کیوںنہیں ؟  
  اُمت مسلمہ کے مسائل  
  ادائیگیِ نماز: آداب و احکام  
  بیت المقدس ....کسی ایوبی کے انتظار میں  
  ام المومنےن حضرت عائشہ ؓ  
  خوبصورت لباس اور خوبصورت نظر آنا ہر خاتون کی خواہش  
  رمضان المبارک اور خواتےن کے شب وروز  
  زینب سلیم ڈار  
  ماہ صےام مےں خصوصی پکوانوں کا اہتمام کرےں!  
 
 
 
Home | National News | Regional News | Mumbai News | World News | Islamic World | Aaj Kal | Analysis | Editorial | Entertainment | Sports | Contact us | Privacy Policy
Copyright © Roznama Urdu Times Mumbai | All Rights Reserved.
Site devloped by UNN IT