|
|
|
| |
|
|
|
|
| |
امےدو بےم کی صلےب پرلٹکا ہوا محمد افضل گرو!
شمس اعجاز:
ماہ دسمبر 2001 مےں افضل گرو کوبھارتےہ پارلےمنٹ پرحملہ کرنے کے الزام مےںعدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ سپرےم کورٹ نے بھی اس سزا کو برقرار رکھا تو زندگی بچانے کا ےہی اےک ہی راستہ تھا جسے اختےار کرتے ہوئے محمدافضل گرو نے صدر بھارت کے نام(Mercy Petition) رحم کی درخواست کی تھی ۔کچھ دوسری اسی قسم کی درخواستوں کے ساتھ ےہ درخواست بھی آج تک معرض التواءمےں ہے۔ بھارت کی اہم اپوزےشن پارٹی بھارتےہ جنتا پارٹی کی خواہش ہے کہ دوسروں کے بارے مےں تصفیہ کرنے مےں بھلے تاخےر ہوجائے مگر افضل گرو کو پھانسی پرچڑھانے مےں تاخےر نہےں ہونی چاہئے۔ بی جے پی کے صدر جب راج ناتھ سنگھ تھے افضل گرو کو پھانسی پرچڑھا دےنے کے لئے ہمےشہ حکومت پرزور ڈالتے رہے تاکہ لوک سبھا کے عام انتخابات مےںافضل گرو کو پھانسی پرچڑھانے کے پرزور مطالبہ پر ہندوستان کے رائے دہندگان خوش ہوکراپنے سارے ووٹ بی جے پی کی جھولی مےںڈال دیں اور بی جے پی پھر اےک بارتخت حکومت پرقابض ہوجائے دوسری طرف شاےد کانگرےس اس خےال خام سے اس مطالبہ کوزےادہ اہمےت نہےں دے سکی کہ اس پارٹی کے خےال کے بموجب بھارت کے عام مسلمان افضل گرو کو پھانسی پرچڑھا دےنے سے کانگرےس سے ناراض ہوجائےںگے۔ اس وقت وےرپا موئلی کانگرےس کے اےک ترجمان تھے۔ کہا کرتے تھے ”افضل گرو کو محض بھارتےہ جنتا پارٹی کوخوش کرنے کے لئے بلا تاخےر پھانسی نہےں دی جا اسکتی اس شبہ کا بھی اظہار کےا جاتا تھا کہ افضل گرو کو پھانسی دی گئی تو اس کے رد عمل کے طور پاکستان مےںقےد ہندوستانی مجرم سربجےت سنگھ کی جاں بخشی کامسئلہ کھٹائی مےں پڑجائے گا۔ کےونکہ سربجےت سنگھ پر دہشت گردی اور جاسوسی کے الزامات مےں موت کی سزا سنائی گئی تھی اور وہاں کی سپرےم کورٹ مےںبھی اس سزا پرمہر توثےق ثبت کردی تھی۔ سربجےت سنگھ کاکہنا ہے کہ اسکی گرفتاری شناخت کی غلطی کا شاخسانہ تھی ادھر افضل گروکے وکےلوں کا دعویٰ ہے کہ افضل گرو کواپنی صفائی پےش کرنے کامعقول طرےقہ پرموقع نہےں دےا گےا۔ ےہ تمام باتےں سپرےم کورٹ کی توثےق کے بعد ختم ہوجاتی ہےں۔ اس لئے ان پرکسی بھی طرح کا تبصرہ کرنا بےکار اور ضےاع وقت کے سوا اورکچھ نہےں۔ معاملہ اب شبہات وخےالات سے پرے نکل چکا ہے۔ افضل گرو کو امےد وبےم کی صلےب پرلٹکا کرچھوڑ دےنا اورحےات وموت کے تذبذب مےںچھوڑ دےنا انسانی حقوق کی اےسی پامالی ہے جس کاماتم کرنا چاہئے۔ اگرقانون کسی کو زندگی عطا نہےں کرسکتا توحےات وموت کی کشمکش سے اسے نجات تو دلا سکتا ہے۔ عدالت عالےہ سپرےم کورٹ کا بھی اےک فےصلہ ہے کہ موت کی سزا دےنے کے بعد مجرم کو اس تذبذب کا شکار بنائے رکھنا کسی طرح مناسب نہےں، اس عالم مےں سزا ےا فتہ مجرم پل پل کی موت مرتا ہے۔ اس لئے انصاف کاتقاضہ ہے کہ سزائے موت کی معافی مانگنے والے کوچار سال گزرنے کے بعد پھانسی کی سزا عمر قےد مےں تبدےل کردےنی چاہئے۔ اب وقت آگےا ہے کہ فطری انصاف کے اس تقاضے کی تکمےل کی جاسکے۔ مشکل ےہ ہے کہ تنگ نظرومفاد پرست سےاست داں حےات وموت کے مسئلہ کو بھی الےکشن کااےک دل چسپ موضوع سمجھتے ہےں۔ ان کے لئے دنےا کی اہم ترےن خوشی الےکشن مےں کامےابی ہے۔ اورےہ رواج کوئی نئی بات نہےں زمانہ¿ قدےم مےں بھی سلاطےن وراجے مہاراجے اپنے بزرگوں اورقابل احترام شخصےتوں کوموت کے گھاٹ اتار دےتے ےا کال کوٹھرےوں مےں ہمےشہ کےلئے بند کردےتے تھے۔ نئے دور کے جمہوری طرز حکومت مےں بھی اس قابل مذمت عمل مےں کوئی قباحت نہےںمحسوس کی جاتی۔ ماہرےن قانون بطور خاص ارباب اقتدار عام طور پر ےہ بات کہنے کے عادی ہوچکے ہےں کہ جب بھی ان سے کسی معاملہ مےں تصفیہ کے لئے کہا جاتا ہے وہ کہہ دےتے ہےں قانون اپنی راہ چلے گا۔ ےعنی جوکچھ ہوگا وہ قانون کے مطابق ہی ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ عدالت عالےہ کے فےصلہ کے بعد رحم کی درخواست کاجواب قانونی کارروائی کاہی اےک حصہ ہے۔مگر افضل گرو اپنے غےر ےقےنی حالات سے اب اس قدر تنگ آچکا ہے کہ وہ سمجھتا ہے موت ہی کو گلے لگالے توبہتر ہوگا ۔وہ رحم کی درخواست پرغور وفکر کاطالب نہےں۔ موت کے انتظار مےں قسط وارموت حاصل کرنے کی بجائے اسے پھانسی دےدی جائے تو ناقابل برداشت تذبذب ےکبارگی نجات مل جائے گی۔ کسی کو اس طرح موت وحےات کی کشمکش مےں اتنے دنوں تک مبتلاا رکھنا انتہائی سنگ دلی اور بربرےت کے مظاہرہ کے سوا اورکچھ نہےں۔ ”قانون اپنا کام کرے گا“ کا مقولہ جموں کشمےر کے وزےر اعلیٰ عمر عبداﷲ نے بھی دہراےا تھا اور پرےس کے نمائندوں پراپنی ناراضگی ظاہر کی تھی کہ وہ افضل گرو کی پھانسی کاذکر بار بار کےوں کرتے ہےں۔ سکھ مخالف فسادات کے ۲۵ سال گزرنے کے بعد سی بی آئی کے ہاتھ کچھ اےسی شہادتےں مل گئےں کہ سجن کمار کے خلاف عدالتی کارروائی ہونی چاہئے۔ کانگرےس کے ترجمان شکےل احمد نے اس معاملہ مےں بھی کہا تھا۔ سجن کمار سابق ممبرپارلےمنٹ ہےںمگر قانون اپنا کام کرے گا۔ ان مثالوں سے ےہ بات سامنے آئی ہے قانون تو واقعی کام کرتا ہے۔ اس کام کی رفتار مقرر کرنا ارباب اقتدار کے بس مےں ہے۔ چاہےں گے تو کسی معاملہ کا تصفےہ فوراً ہوجائے اور وہ نہ چاہےں تو صدےوں تک کسی تنازع کافےصلہ نہ ہوسکے۔ تقرےباً ۵ سال پہلے آنرایبل سپرےم کورٹ نے افضل گرو کی سزائے موت کی توثےق کردی تھی، اسکے بعد سے رحم کی درخواست ہنوز صدر بھارت کے فےصلے کی منتظر ہے۔ ۱۸ستمبر ۲۰۰۹ کے مقدمہ جگدےش بنام رےاست مدھےہ پردےش کے فےصلہ مےں سپرےم کورٹ نے اشارةًےہ بات کہی تھی کہ رحم کی درخواستےں سےاست کے جال مےں پھنس گئی ہےں۔ حالانکہ اےسی درخواستوں کے فےصلے جلد سے جلد طے ہوجانے چاہئیں۔ ڈوےژن بینچ کے ججوں کے بقول” ہم منصفےن ان درخواستوں کے حتمی فےصلوں سے لاعلم رہتے ہےں کےونکہ ےہ کام حکومت کاہوتا ہے وہ کسی مجرم کو بخش دے ےا سزا دےنے کا فےصلہ برقرار رکھے۔ اسکا تصفےہ حالات اورمقدمے کی تفصےلات سامنے رکھتے ہوئے قانون کے مطابق ہونا چاہئے۔ انسان بہرحال کوئی حےوان ےا موےشی نہےں ہوتا کہ سےاسی مفاد حاصل کرنے کے لئے ارباب اقتدار اس کی ذات کااستحصال کرےں۔ کم از کم موت کی سزا کا جن کے لئے اعلان ہوچکا ہے۔ اسے پل پل مرنے کاعذاب دےنا انسانی اور قانونی تقاضوں سے مےل نہےں کھاتا تقرےباً اےک سال پہلے عدالت عالےہ نے انصاف وقانون کے تقاضے ےاد دلائے تھے۔ مگرہنوز اس معاملہ مےں حکومت کی طرف سے عملاً کوئی کارروائی نہےںکی گئی۔ وقت آگےا ہے کہ ۵ سال سے زائد عرصے سے تذبذب کاعذاب سہنے والے مجرموں کی جاں بخشی کرکے ان کی موت کی سزا عمر قےد مےں تبدےل کردی جائے۔ےاپھر اس کے برخلاف موت کی سزاپانے کےلئے پھانسی پرلٹکا دےاجائے۔ پھانسی کی سزا پانے والے مجرموں کی فہرست جنہوں نے صدربھارت کورحم کی درخواستےںپےش کی ہےں صرف محمدافضل گرو نہےں بلکہ راجےوگاندھی کے ہتھےارے بھی شامل ہےں۔حکومت کاجو بھی فےصلہ ہووہ مذہب وذات کے امتےاز کے بغےر ہو اور جلدہو!
5th Jun 2010, 01:17 pm. |
| |
|
|
|
|
| |
کون سنے مری نوا تےز ہوا کے شور مےں 21-Aug-2010, 02:41 PM |
 |
|
آپ اپنے باپ داد ا کی ڈھائی سو کروڑ 21-Aug-2010, 02:41 PM |
 |
|
ہندوستان میں سفےد پوش چوروں کی چاندی 21-Aug-2010, 02:40 PM |
 |
|
شرم تم کو مگر نہےں آتی ! 21-Aug-2010, 02:37 PM |
 |
|
اب مائی نےم از خان پارٹ ٹو 21-Aug-2010, 02:37 PM |
 |
|
یو پی اےII کا حال بُرا ہے! 07-Aug-2010, 01:54 PM |
 |
|
ترقی کے جنگل مےں 07-Aug-2010, 01:53 PM |
 |
|
سرکار نہےں صرف عدالتےں مسلمانوں کو انصاف دلا سکتی ہےں 07-Aug-2010, 01:52 PM |
 |
|
کےسے اور کےوں ےو پی اے IIکی منموہن سرکار پر بھروسہ کےا جائے ؟ 07-Aug-2010, 01:51 PM |
 |
|
مسلمانوں کو ےا ہندوو¿ں کو ؟ 02-Aug-2010, 03:19 PM |
 |
|
اےک امےت شاہ تو گرفتار ہوا 02-Aug-2010, 03:18 PM |
 |
|
مرا قاتل وزیر داخلہ ہے 02-Aug-2010, 03:18 PM |
 |
|
آدی باسےوں اور دلتوں پر مظالم بنام ترقی 02-Aug-2010, 03:18 PM |
 |
|
پولس حراست مےں اموات اصل مرض کیا ہے؟ 02-Aug-2010, 03:17 PM |
 |
|
گجرات سرکار فرضی مڈبھےڑ کے معاملے چھپاتی پھررہی ہے 02-Aug-2010, 03:17 PM |
 |
|
|
|
|
| |
|
|
|