| |
|
|
|
|
| |
ملائم سنگھ ہندوستان کو کدھر لے جارہے ہیں
عبدالرحمان صدےقی:
سماج وادی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں جس طرح انگلش میڈیم اسکولوں اور کمپیوٹر کی مخالفت کی ہے اس سے ان کی محدود بصیرت اور سیاسی تنگ نظری کا اندازہ ہوتا ہے ۔ یہ دور سائنس اور ٹکنالوجی کی انتہائی ترقی کا زمانہ ہے اور انگریزی زبان سے واقفیت اور کمپیوٹر کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھاجاسکتا ۔ آئی ٹی شعبہ میں بہت بڑی تعداد میں ہندوستان کے اندر اور ہندوستان کے باہر ہندوستانی برسرروزگار ہیں اگرچہ اس وقت پوری دنیا میں کسادبازاری چل رہی ہے لےکن بڑی تعداد میں نوجوانوں کو ملازمتوں سے برطرف بھی کیا گیا ہے لےکن بحیثیت مجموعی ابھی بھی بڑی تعداد میں نوجوان آئی ٹی سیکٹر سے جڑے ہوئے ہیں جہاں تک انگریزی زبان کا معاملہ ہے آج کے زمانہ میں اس کی اہمیت اور افادیت اس کی ناگزیریت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا آج جب کہ دنیا ایک عالمی گاﺅں گلوبل ولیج میں تبدیل ہوچکی ہے۔ انگریزی زبان سے واقفیت کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھاجاسکتا ۔ مذہبی حلقے تک انگریزی زبان کی اہمیت کو تسلیم کرچکے ہیں اور اس میں مہارت حاصل کررہے ہیں ۔ انگریزی کی مخالفت نئی نہیں ہے ہندوستانی سیاست میں سرگرم سوشلسٹ گروپ کے لوگ ایک عرصہ سے اس کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں ۔ اتر پردیش اور بہار میں جب ان سوشلسٹوں کو اقتدار حاصل ہوا تو انہوں نے انگریزی زبان کی لازمی حیثیت ختم کردی ۔ سرکاری اسکولوں میں انگریزی اختیاری مضمون کی حیثیت سے پڑھائی جاتی تھی لےکن ان اسکولوں کا معیار تعلیم نہایت پست ہوتا تھا ۔ دونوں ریاستوں کی پسماندگی کی ایک بنیادی وجہ بھی یہی ہے یہاں کا معیار تعلیم انتہائی گھٹیا ہے سرکاری اسکولوں سے مایوس ہوکر معاشرہ کے ذی شعور اور اعلیٰ طبقہ کے لوگوں نے انگریزی میڈیم کے اسکولوں میں پناہ لی اور ان میں خود سماج وادی رہنما اور ان کے بچے بھی شامل ہیں ان لوگوں نے اپنے لئے تو ہندوستان اور یوروپ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کا انتخاب کیا لےکن عوام کے لئے گھٹیا معیار تعلیم والے سطحی سرکاری اسکول قائم کئے جس زمانے میں سوشلسٹوں کا عروج تھا اس وقت کمپیوٹر اتنا عام نہیں ہوا تھا اس لئے اس کی مخالفت کا کوئی مطلب نہیں تھا لےکن آج جب انگریزی تعلیم کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر بھی زندگی کا لازمی جز بن گیا ہے تو سوشلسٹ رہنما انگریزی کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کی بھی مخالفت پر اتر آئے ہیں ۔ سماج وادی پارٹی کے انتخابی منشور پر پورے ملک میں بے چینی سی پھیل گئی ہے ۔ کہنے کو تو سماج وادی پارٹی خود کو قومی سطح کی سیاسی پارٹی قرار دیتی ہے لےکن لےکن پارٹی کا مینی فیسٹو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ملائم سنگھ یادو اترپردیش کے دیہی علاقوں سے آگے دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ خود ملائم سنگھ یادو متعدد بار اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں ڈیڑھ سال قبل تک یہاں انہیں کی پارٹی کی حکومت تھی اور اس دوران معیار تعلیم کی جو درگت بنی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں بھی اتر پردیش سب سے زیادہ پچھڑا ہوا ہے ۔ صرف انگریزی تعلیم اور کمپیوٹر ہی نہیں زراعت میں مشینوں کے استعمال کی بھی سماج وادی پارٹی نے مخالفت کی ہے سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر کبھی اس قسم کی پسماندہ سوچ رکھنے والے اقتدار میں آگئے تو اس ملک کا کیا ہوگا ۔
12th Apr 2009, 02:16 pm. |
| |
|
|
|
|
| |
قرآن سوزی(نعوذ باللہ) کی گئی تو امرےکہ کی اُلٹی گنتی شروع ہوجائےگی 03-Aug-2010, 01:55 PM |
 |
|
اے ٹی اےس کی سربراہی کانٹوں بھرا تاج 26-Mar-2010, 02:04 PM |
 |
|
گوا کے بعد پونہ دھماکہ اور اب۔۔۔؟ 14-Feb-2010, 01:12 PM |
 |
|
یہ اقتدار کاسیمی فائنل ہے فائنل دوسال بعد 11-May-2009, 01:16 PM |
 |
|
ایف آئی آر درج ہونے کے بعد مکوکا کا اطلاق غےر قانونی 11-May-2009, 01:15 PM |
 |
|
آکولہ کا ملت تعلیمی کیمپس ۔ مسلمانوں میں تعلیم کو عام کرنے کا وسیع مشن فاروق انصاری 16-Mar-2009, 02:09 PM |
 |
|
مودی کے راج میں جو بھی نہ ہوجائے کم ہے! 02-Feb-2009, 12:50 PM |
 |
|
ایک دن میں ۸۶ ہزار افراد بے روزگار! یہ کیا ہورہا ہے بھائی، یہ کیا ہورہاہے؟ 29-Jan-2009, 12:58 PM |
 |
|
ملائم سنگھ یادو کا زعفرانی چہرہ بے نقاب 28-Jan-2009, 12:37 PM |
 |
|
امریکہ کی دشمنی خطرناک ‘ دوستی جان لیوا 11-Jan-2009, 12:49 PM |
 |
|
سیاست دانوں کے بعد اب پولیس افسران کا نمبر 16-Dec-2008, 12:41 PM |
 |
|
نہیں ہے ۱۱ (اور نومبر نہیں ہے ستمبر ) 14-Dec-2008, 12:25 PM |
 |
|
مسلمانوں کی تعلیمی حالت سدھارنے کےلئے مہاراشٹر بھر میں کوچنگ کلاسیز 12-Dec-2008, 11:54 AM |
 |
|
جنگ کیا حل کرے گی مسئلوں کو ‘جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے 11-Dec-2008, 11:58 AM |
 |
|
مکوکا لگانے مےں اے ٹی اےس نے تاخےر کر دی 20-Nov-2008, 12:57 PM |
 |
|
|
|
|