|
|
|
| |
|
|
|
|
| |
بابری مسجدمقدمہ: فیصلہ عدالت سے باہرکیوں؟
٭مونسہ بشریٰ عابدی
۲۲۲۳دسمبر کی درمیانی شب سے لے کر ۲۷ جولائی ۲۰۱۰ءکی شام تک ہندوستانی مسلمانوں نے ایک تاریخی مقدمہ کے تاریخی فیصلہ کا تاریخی صبر کے ساتھ انتظارکیاہے ۔ مگرجب سماعت مکمل ہوگئی اورفیصلہ کی گھڑی آگئی تومنصفین ِ کرام نے اس کوستمبر تک کے لئے محفوظ کرلیا۔ انتظاراورطویل ہوگیا۔ دونوں فریقوں کے وکلاءکوعلاحدہ علاحدہ اپنے چیمبرس میںبلا کر عدالت سے باہرسمجھوتہ کرنے کی کوشش کی۔ اس گفتگو کے بعدمیڈیا کے سامنے اظہار خیال کی پابندی کو تومسلم وکلا ءنے پوری طرح نبھاتے ہوئے خاموشی برقرار رکھی۔ مگرحقیقت ان کے چہروں سے عیاںہوگئی تھی.... کہ گفتگو ڈھاک کے تین پات ثابت ہوئی۔ بابری مسجد تنازعہ سے متعلق اب تک کی ہرگفتگوکی طرح ۔ فریق ِ مخالف کی ایک وکیل رنجنا اگنی ہوتری نے البتہ ایک مرتبہ پھرہندوآستھا کا واسطہ دیا۔ اس معاملہ کو پھرآستھا سے جوڑا۔ آستھا جوتاریخی حقائق کو تسلیم نہیںکرتی۔ آستھا جوانصاف کے تقاضوں سے بالاتر بنادی گئی ہے ۔ ۲۲۲۳دسمبر کی درمیانی شب مگر جوکچھ ہوا‘وہ آستھا نہیںفتنہ انگیزی کا نتیجہ تھا۔ مسلمانوںنے اس موقع پربھی قانون کے رکھوالوں کی دہائی دی ۔ اورمسجد میںتالا پڑگیا ۔ تالا کھلنے پر بھی انہوںنے پُرامن اورقانونی اندازمیں احتجاج کیا۔ مگرپوجا اورارچنا شروع کردی گئی ۔ ہم سوچتے رہے ‘مطمئن رہے کہ معاملہ عدالت میںزیرِ سماعت تھا ۔ شیلا نیاس کروایاگیا ۔ہم پُرامید نگاہوںسے عدالت کی طرف دیکھتے ر ہ گئے ۔ کارسیواو¿ں کے کئی مرحلے گذرتے چلے گئے ۔ بھگوا بریگیڈاپنے ایجنڈے پرآگے بڑھتا رہا۔ بابری مسجد کی شہادت کے لئے لوگوںکواکسانے کے لئے کہیںسادھوی رتھمبرا ‘کہیں اوما بھارتی ‘کہیں اڈوانی ‘کہیں جوشی ‘کہیں سنگھل اورکہیں کٹیہار زہراگلتے رہے ۔ مسجد کے انہدام کے لئے باقاعدہ ٹریننگ سینٹرس قائم کئے گئے ۔ مگرحکومت اورقانون کی نظرمیں اب بھی ”متنازعہ مقام “ کا |Status Quo| تبدیل نہیںہواتھا۔ توگویا کچھ بھی نہیںہواتھا۔ رتھ یاترا ئیں خون کی لکیریں چھوڑتی ہوئی ملک کے کونے کونے میںگھومتی رہیں۔ مگربس ذرا لالوکے کانوںپر جوں رینگ گئی ۔ البتہ باقی سب کچھ جوں کا توں تھا۔ پھرحکومت کیوں تشویش میںمبتلا ہوئی۔ کارسیوکوںکا مجمع ملک کے ہرگوشہ سے ایودھیا کی جانب بڑھتا رہا۔ تربیت یافتہ کارسیوک ٹرینوںمیں مکمل سہولتوں اورتمام تربے ہودگی کے ساتھ سفر کرتے رہے ۔ مگرہوا تو کچھ نہیںتھا۔ ایودھیا میں خفیہ طورپر دھماکہ خیز مواد اور علانیہ طورپر ہاتھوں میںلاٹھی ‘ گرز‘کدال ‘ اورپھاوڑوں کے ساتھ لاکھوں کارسیوک جمع ہوتے رہے ۔ مگرشاید کچھ نہیں ہوا۔ کیونکہ مسجد تو محفوظ تھی۔ اورحکومت وعدالت کی یقین دہانیوں کاسایہ بھی مسلمانوںکے سر پرقائم تھا۔ بابری مسجد کے خلاف زہرافشانی اور ۶دسمبر کوایودھیا ”ہندویوتیولوہنکار“ کے نعروںاوراڈوانی کے ذریعہ ” ویرتا اورشبھ سنسکار“ جگانے کی کوششیں جاری رہیں۔ مگرپھربھی کچھ نہیںہوا۔ مسجد پرکلہاڑوںکی ضربیں پڑنا شروع ہوگئیں۔ مگرٹھہرئیے ۔ اب بھی کچھ نہیںہواہے ۔ پانچ سوسالہ پرانی پختہ عمارت کوئی آج کل کے بھُربھرے کانکریٹ سے نہیںبنی تھی کہ مسمارہوجاتی ۔ وہ تومحض کارسیوک کچھ دھول اڑا کرمسلم حکمرانوں کے ذریعہ مندروںکے انہدام کے خلاف اپنا بخار اُتاررہے تھے ۔ حکومت توپھربھی ہمارے ساتھ تھی ۔ عدالت عالیہ کی سرپرستی بھی ہمیں کوحاصل تھی ۔ وہ توبس بیچارے نرسمہاراو¿ جی کی طبیعت کچھ ناساز تھی اور ذرا کی ذرا ان کی آنکھ لگ گئی تھی ۔ ورنہ مسجد شہید تھوڑے ہی ہوتی۔ وہ جاگے تودونوںہاتھ جوڑے ‘ٹی وی پرنمودار ہوئے ۔مسلمانوںسے معافی مانگنے کےلئے ۔ مسجد کی دوبارہ تعمیر کے وعدے کے ساتھ !
مسجد کی شہادت کے بعدجوکچھ ہوا وہ مسلمانوںکے پچاس سالہ صبرکے ٹوٹنے کا عمل تھا۔ مگراسے بھی بزورقوت کچل دیاگیا۔ عدالت حرکت میں آئی اور ۱۲مارچ کے ‘ صرف ۱۲مارچ کے مجرمین کوپھانسی کے پھندوں تک پہنچادیا ۔ سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ دھول کھاتی رہی ۔ الیکشن آتے اورجاتے رہے ۔ ہزاروں کے قاتل آزادگھومتے رہے ۔ سینکڑوں کے مرتکب سپریم کورٹ میںاپنی اپیل پر فیصلے کے منتظر ہیں ۔ انہدام مسجد کے اصل مجرمین بھی ۔جنہیں لاکھوں نگاہوں نے ٹی وی پر ارتکاب ِ جرم کرتے ہوئے دیکھا۔ عدالت ابھی ان کے اس علانیہ جرم کوثابت نہیںکرسکی ہے ۔ فوجداری مقدمہ جاری ہے ۔ لبراہن کمیشن اپنی رپورٹ پیش کرچکا ہے ۔ جسٹس لبراہن کی مجبوریوں نے جسے گہنادیاہے ۔مسجد کی زمین کی ملکیت کا فیصلہ قریب ہے ۔ آثارقدیمہ کی کھدائی ‘تاریخی حقائق کوپوری طرح کھنگال لینے اورمستند اورمعتبر مورخین تک کی گواہیوںسے گذرتا ہوا اپنی سماعت مکمل کرنے والا یہ مقدمہ کیا ایودھیا میں مسجد کے مقام پررام مندر کی موجودگی ثابت کرسکا ہے؟ کیا مندر کے انہدام پرمسجد کی تعمیرکا کوئی ثبوت ملا ہے ؟ اگرایسا ہوتا تو آستھا کا راگ دوبارہ نہیںالاپا جاتا۔ عدلیہ کے فاضل جج بھی اس حقیقت سے ناواقف نہیںہونگے کہ مندرکی باقیات کی تلاش ایک لاحاصل عمل ہے ۔ تاہم مقدمہ کی شرائط پوری کرنا ان کا فرض تھا ۔ ۲۲دسمبر ۱۹۴۹ ء ماقبل ِ تاریخ (Prehistoric) دن نہیںتھا۔ آستھا کی طرح ۔جس کا تعلق لاکھوں سال قبل سے ہے۔ دسمبر ۱۹۴۹ ءابھی بہت سے لوگوںکے حافظوں میںمحفوظ ہوگا۔ رام للّاکے پرکٹ ہوجانے کا واقعہ ابھی تاریخ بھی نہیںبن سکا ہے۔ ابھی ایسے افراد موجود ہیں جواس کے چشم دید گواہ ہیںاوربہتیرے ایسے بھی ہونگے جنہوںنے اسے دیکھا نہیںتواخبارات کی شاہ سرخیوں میںپڑھا ضرر ہوگا۔ اس معاملہ کو انگریزوں نے ۱۹۱۸ءمیںاورغالباً اس سے قبل بھی اٹھایاتھا۔ ہندوستانیوںکی تقسیم اورہندوو¿ں کی جارحیت کوبڑھانے اورہوا دینے کے لئے ۔ کیونکہ وہ مسلمانوں سے جنگ آزادی کی ابتدا ءیعنی ۱۸۵۷ ءاوراس کے بعدبھی اس میںسرگرم رول ادا کرنے کا انتقام لیناچاہتے تھے ۔ انہیںمعلوم تھاکہ ساورکر اورواجپئی کوتوخریدا جاسکتاہے مگر دونوںمحمد علی یعنی جناح یا جوہر کونہیں۔ جوکانگریس کی زمام سیاست سنبھالنے سے پہلے اوربعدبھی جنگ آزادی کے لئے مخلصانہ جدوجہد میں سربراہی کے فرائض انجام دیتے چلے گئے تھے ۔ انگریز جانتے تھے کہ انہیںصرف سزا دی جاسکتی تھی ۔ ہندوجارحیت پسندوںکے ہاتھوں ۔ اس ملک میں ان کی تاریخ کومسخ کیاجاسکتا تھا۔ پی این اوک جیسے جنونی مورخین کے ذریعہ ۔ مگراس جنون کی کڑیاں حقائق سے جوڑی نہیں جاسکتی تھیں اورمندرکا وجود ثابت نہیںکیاجاسکتا تھا ۔ آزادی کے بعدمسلمانوں پرپاکستان کا ایجنڈا تھوپا گیاتھا مگرانہیں پھربھی اس کی قیمت چکانی تھی۔ خونریز فسادات اور بابری مسجد جیسے واقعات کے ذریعہ۔انہیں اس ملک پرحکومت کرنے کی سزا دینی ضروری تھی ۔ انہیں”حکمرانی کے نشہ “ سے باہرلانا ضروری تھا۔ انہیںاپنی عظمت رفتہ کی پامالی کا نظارہ کروانا ضروری تھا۔ انہیںیہ باور کراناتھاکہ وہ اس ملک میں دوسرے درجہ کے شہری بن کررہیں۔ اکثریت کے رحم وکرم پر۔اپنی شاندار تاریخی روایات کے بل بوتے پر نہیں۔ دوسروں کے احسانات کے تلے اپنے استحقاق کی بنیادپرنہیں۔
اگر آپ ملک کی تاریخ کوتقسیم سے پہلے اوربعدکے دورکے تناظرمیںدیکھتے ہیںتواسے ایک اورتناظر عطا کردیاگیاہے ۔ ۶دسمبر ۹۲ءسے پہلے اوربعد ۔اس سے قبل کا مسلمان اپنے حقوق کے لئے آوازاٹھانے کا حوصلہ رکھتا تھا ۔ بعدمیںاس نے اسے کھودیا ہے ۔ وہ کم ازکم اپنی سیاسی بے وزنی کا رونا روتا تھا۔ اب اس کے آنسوخشک ہوچکے ہیں۔ وہ اس سے قبل بے انصافی پراحتجاج کی جسارت کرتا تھا اب صرف دل میںکڑھتا رہتا ہے ۔ اس سے قبل پارلیمنٹ کے ایوانوںمیں اس کی آواز تھی اب ختم ہوتی جارہی ہے۔ گجرات اوروہ سب کچھ جودہشت گردی اوربم دھماکوں کی صورت میں ہوتا رہا۔ مسجد کے بعد کا منظرنامہ ہی تھا ۔ مسجد کی شہادت نے مسلمانوں کا نفسیاتی آپریشن بھی کردیاتھا۔ اوراب وہ صرف عدالت کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ ابھی تک انہوںنے عدلیہ پراپنے اعتماد کومتزلزل نہیںہونے دیاہے ۔ وہ آج بھی کہہ رہے ہیں کہ انہیں عدالت کا فیصلہ قابل قبول ہے ۔ مگرکیا فریق ِ مخالف کا معاملہ بھی یہی ہے ؟ ۱۹۸۴ءمیںسکھوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے ازالے کی ہرممکن کوشش ہورہی ہے ۔ ۳۰برسوںکے بعدبھی اسے نظر انداز تو نہیںکیاگیا ؟ پھرمسلمانوں کودیرسے ہی سہی کیا انصاف مل سکے گا ؟ یافیصلہ محفوظ رہی رکھا جائے گا؟ ا ب تک بے شمار فسادات کے کمیشنوں کی رِپورٹ پرعمل درآمد امن و امان کے برہم ہوجانے کے اندیشہ کے تحت نافذ نہیں کی جاسکی ہے ؟ کیا اس فیصلہ کا نفاذ ممکن ہوسکے گا ؟
مقدمہ جب مکمل ہوچکا ہے توپھر عدالت کے اندر ہونے والے فیصلے میں ایسی کیا بات ہے ؟
آخرفیصلہ عدالت کے باہرکیوں ؟؟؟
٭٭٭
29th Jul 2010, 03:47 pm. |
| |
|
|
|
|
| |
عےد مبارک! 10-Sep-2010, 03:45 PM |
 |
|
ملت اسلامیہ کی عیداتنی افسردہ کیوں؟ 10-Sep-2010, 03:44 PM |
 |
|
لاو¿ڈاسپیکر کاظالمانہ استعمال 09-Sep-2010, 05:30 PM |
 |
|
تو ہم کےا کررہے ہےں؟ 09-Sep-2010, 05:29 PM |
 |
|
....اُن کاہارنامشکل! 08-Sep-2010, 04:07 PM |
 |
|
الوداع رمضان:اللہ کے حضور دست بہ دعا ہوجائیں! 08-Sep-2010, 04:06 PM |
 |
|
مردہ آوازوں کے جنگل میں 07-Sep-2010, 04:15 PM |
 |
|
پی چدمبرم کو کانگریس پارٹی کا مشورہ 07-Sep-2010, 04:14 PM |
 |
|
تلنگانہ تحرےک‘ قےادت کی مفاد پرستی کا شکار! 06-Sep-2010, 04:26 PM |
 |
|
یہ وہی خدا کی زمین ہے یہ وہی بتوں کا نظام ہے 06-Sep-2010, 04:26 PM |
 |
|
یوپی کی دھماکو صورت حال 05-Sep-2010, 03:39 PM |
 |
|
عالمی یوم قدس : اسرائیلی مظالم کے خلاف کامیاب تحریک 05-Sep-2010, 03:37 PM |
 |
|
لایعنیت سے آگے! 04-Sep-2010, 04:16 PM |
 |
|
قرآن دلوں کو مسخر کرنے والی معجزاتی کتاب 04-Sep-2010, 04:16 PM |
 |
|
لایعنیت سے آگے! 03-Sep-2010, 03:39 PM |
 |
|
|
|
|
| |
|
|
|