Friday, September 10, 2010, 04:24:15 PM Download Font  |   Urdu Keyboard  |   On-Screen Keyboard  
Urdu Times
The Urdu Times Daily, Mumbai
Home Aaj Kal Analysis Editorial Entertainment Sports News Mumbai News Regional News Islamic News World News National News
         
  قارونی سرماےہ دارانہ نظام!


سابق وزےر قانون رام جےٹھ ملانی کے مطابق ملک کا اےک ہزار پانچ سو ارب ڈالر (قریب پچاسی ہزار ارب روپئے) کا سرماےہ سوئز رلےنڈ اور دوسرے غےر ملکی بےنکوں مےں پڑا سڑرہاہے (جےسے ہمارے گوداموں اور کھےتوں مےں گےہوں اور چاول سڑرہا ہے) ےہ خطےر رقم صرف سےاست دانوں ہی کی نہےں اس مےں بڑے بڑے صنعت کاروں ، انڈر ورلڈ مافےاﺅں اور بالی ووڈ کے ستاروں کی ناجائز دولت بھی شامل ہے جوچوری سے ملک کے باہر لے جائی گئی ہے۔ رام جےٹھ ملانی ہی کے مطابق ، اگر ےہ پچاسی ہزار ارب روپئے ہندوستان واپس لائے جاسکےں، تو نہ صرف ملک کا پورا قومی قرض ادا ہوجائے بلکہ ملک کے عوام اگلے تےس سال تک لگاتار ٹےکس فری بجٹ کے مزے چکھےں اور صرف اتنا ہی نہےں بلکہ ملک کے ہر خاندان کوڈھائی لاکھ روپئے بھی مل جائےں! ہندوستان کا غےر ملکی قرضہ مارچ دو ہزار دس مےں 261.4ارب ڈالر (ےعنی قریب تےرہ ہزار ارب روپئے) تھا! ےہ مارچ دو ہزار نو کے مقابلے ساڑھے سولہ فی صد زےادہ ہے۔ ملک کا مالےاتی خسارہ جو سال گزشتہ 28.7ارب ڈالر تھا امسال بڑھ کر 38.4ارب ڈالر ہوچکاہے! دوسری طرف ہمارے ملک مےں باون اےسے کھرب پتی ہےں جن کا مجموعی سرماےہ قومی گھرےلو پےدوارا (GDP) کے اےک چوتھائی کے برابر ہے جب کہ اسی وطن عزےز مےں اسّی ( 80) کروڑ لوگ اےسے ہےں جو بےس روپئے روزانہ سے کم کی آمدنی مےں زندگی گزارنے پر مجبور ہےں! اُن باون کھرب پتےوں مےں سے بائےس (22) بڑے سرماےہ دار گھرانوں کا سرماےہ 1957مےں محض 312.63کروڑ روپئے تھا 1997ءمےں وہ پانچ سو گنا بڑھ کر اےک لاکھ اٹھاون ہزار کروڑ ہوچکاتھا۔ اندازہ لگائےے کہ آج 2010مےں ان کا سرماےہ کہاں پہنچ چکاہوگا! سےتا رام ےچوری نے اس صورت حال کو سرماےہ داری کی بدترےن شکل قرار دےا ہے (دےکھئے ہندوستان ٹائمز ۲۷ جولائی ۲۰۱۰) دراصل ےہ ’قارونی سرماےہ داری‘ ہے۔ اور قارون بنی اسرائےل کی فرد تھا۔ ےہ اسی قارونی سرماےہ داری کا نتےجہ ہے کہ ۲۵ جولائی کے اےک روزنامے کے مطابق ہندوستانی غذائی ذخےرہ کا اےک تہائی حصہ برسال سڑا دےا جاتاہے اور ےہ اےک تہائی‘ گےارہ ہزار ےا ترسٹھ ہزار ٹن نہےں تقرےباً دو کروڑ ٹن ہوتاہے ےعنی لوک سبھا مےں سرکاری اعترافات کے برخلاف ’قارونی‘ حقےقت ےہ ہے کہ وطن عزےز مےں صرف اسی سال نہےں۔ ہر سال گےہوں اور چاول سمیت ڈےڑھ سے دو کرور ٹن اناج سڑا دےا جاتا ہے۔ اور سرکاری گوداموں کو شراب اور کولڈرنکس کا ذخےرہ رکھنے کے لئے کرائےے پراٹھا دےا جاتاہے۔ سنےچر ۲۴ جولائی کو اےک الکٹرانک نےوز چےنل نے کانپور کے اےف سی آئی گودام کا حال دکھاےا تھا جہاں کولڈرنکس۔ کوکا کولااور پےپسی وغےرہ کے کرےٹ بھرے ہوئے تھے اوراناج کھلے مےں پڑا سڑرہا تھا۔ اسی طرح جے پور کے اےف سی آئی گودام کو اےک شراب فروش نے کرائے پر لے کر اس مےں قےمتی غےر ملکی شرابوں کا ذخےرہ کر رکھا تھا اور گےہوں باہر سڑنے کے لئے چھوڑ دےا گےا تھا۔ اس روز ٹی وی چےنل نے دہلی کے دل نرےلا اناج منڈی کا حال بھی دکھاےا جہاں صرف پانچ ہزار ٹن اناج رکھنے کی گنجائش ہے لےکن وہاں ہر سال کی طرح امسال بھی قریب ۲۵ ہزار ٹن گےہوں اور چاول لاےا گےا ہے جس مےں سے حسب دستور قدےم بےس ہزار ٹن کھلے مےں سڑنے کے لئے چھوڑ دےا گےا ہے۔ زی نےوز کاکہنا تھا کہ صرف نرےلا ہی نہےں دہلی کی ہر اناج منڈی کاکم وبےش ےہی حال ہے۔
اور اب سپرےم کورٹ نے اناج کے اس ضےاع کو قومی جرم قرار دےتے ہوئے حکومت ہند سے پندرہ دن کے اندر جواب مانگا ہے اور وہی بات کہی ہے جو ہم جےسے لوگ پہلے سے کہہ رہے تھے کہ جب حکومت کے پاس اناج ذخےرہ کرنے کی جگہ ہی نہےں ہے تو حکومت فاضل اناج کو سڑانے کے بجائے ضرورت مندوں مےں تقسےم کےوں نہےں کردےتی؟ کےا حکومت کبھی اےسا کرے گی؟ ےا سپرےم کورٹ کی مداخلت سے ےہ مسئلہ ہمےشہ کے لئے حل ہوجائے گا؟ ہمارا خےال ہے ، نہےں! اس لئے کہ ےہ ملک مےں گےہوں اور چاول نہےں سڑرہا ہے بلکہ ےہ نظام سڑرہاہے جس نے ملک کو ’قارونی سرماےہ داری‘ کے پاس گروی رکھ کر ملکی دولت اور وسائل کو محض چند درجن ہاتھوں کے حوالے کر رکھاہے۔ اور اَسی (80) فےصد عوام کے ہاتھوں مےں بھوک ےا تےس روپئے کلو آٹے کے سوا اور کچھ نہےں ہے!مطلب ےہ کہ خرابی صرف اےف سی آئی ےا گودام انتظامےہ کی نہےں پورے سسٹم کی ہے۔ ےہ گلوبلائزےشن والے سامراجی سرماےہ داری نظام کاعذاب ہے!




28th Jul 2010, 03:02 pm.
         
 
عےد مبارک!
10-Sep-2010, 03:45 PM
ملت اسلامیہ کی عیداتنی افسردہ کیوں؟
10-Sep-2010, 03:44 PM
لاو¿ڈاسپیکر کاظالمانہ استعمال
09-Sep-2010, 05:30 PM
تو ہم کےا کررہے ہےں؟
09-Sep-2010, 05:29 PM
....اُن کاہارنامشکل!
08-Sep-2010, 04:07 PM
الوداع رمضان:اللہ کے حضور دست بہ دعا ہوجائیں!
08-Sep-2010, 04:06 PM
مردہ آوازوں کے جنگل میں
07-Sep-2010, 04:15 PM
پی چدمبرم کو کانگریس پارٹی کا مشورہ
07-Sep-2010, 04:14 PM
تلنگانہ تحرےک‘ قےادت کی مفاد پرستی کا شکار!
06-Sep-2010, 04:26 PM
یہ وہی خدا کی زمین ہے یہ وہی بتوں کا نظام ہے
06-Sep-2010, 04:26 PM
یوپی کی دھماکو صورت حال
05-Sep-2010, 03:39 PM
عالمی یوم قدس : اسرائیلی مظالم کے خلاف کامیاب تحریک
05-Sep-2010, 03:37 PM
لایعنیت سے آگے!
04-Sep-2010, 04:16 PM
قرآن دلوں کو مسخر کرنے والی معجزاتی کتاب
04-Sep-2010, 04:16 PM
لایعنیت سے آگے!
03-Sep-2010, 03:39 PM
 
 
 
Search
       
  کون سنے مری نوا تےز ہوا کے شور مےں  
  آپ اپنے باپ داد ا کی ڈھائی سو کروڑ  
  ہندوستان میں سفےد پوش چوروں کی چاندی  
  شرم تم کو مگر نہےں آتی !  
  اب مائی نےم از خان پارٹ ٹو  
  بہن کے عاشق کو قتل کر کے آنگن مےں دفن کر دےا  
  مصےبت، صبر اور رضا  
  عوامی عدالت  
  اندھیر نگری چوپٹ راج  
  زکوٰ ة دینے کے نام پر درجنوں معذور اپاہج مرد خواتین کو لوٹ لیا  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  ڈی اےن اے تخلےق الٰہی کا کرشمہ  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ  
  مالی نقصانات سے ہم بےمار ہو سکتے ہےں  
  اور راز کھل گیا!  
  خدادیکھ رہا ہے  
  دھنک کی کہانی  
  اورپری ناراض ہوگئی  
  ”کالو زندہ باد“  
  ٭تھانے مےونسپل کارپورےشن کے محکمہ حفظان صحت مےں مواقع  
  آخر AMIEگرےجوےٹ لےول فارمل اےجوکےشن کےا ہے؟  
  ہندوستان میں پریمیئر کالج میں حصہ داری  
  مہنگی تعلےم نے مستحق طلبا ءکے ارمانوں کا گلا گھونٹ دےا  
  بےنک آف بڑودہ کو کلرکوں کی ضرورت  
  قصر سفید میں مرد سیاہ....  
  فرقہ پرستی ‘ ڈاکہ وقتل جیسا جرم کیوںنہیں ؟  
  اُمت مسلمہ کے مسائل  
  ادائیگیِ نماز: آداب و احکام  
  بیت المقدس ....کسی ایوبی کے انتظار میں  
  ام المومنےن حضرت عائشہ ؓ  
  خوبصورت لباس اور خوبصورت نظر آنا ہر خاتون کی خواہش  
  رمضان المبارک اور خواتےن کے شب وروز  
  زینب سلیم ڈار  
  ماہ صےام مےں خصوصی پکوانوں کا اہتمام کرےں!  
 
 
 
Home | National News | Regional News | Mumbai News | World News | Islamic World | Aaj Kal | Analysis | Editorial | Entertainment | Sports | Contact us | Privacy Policy
Copyright © Roznama Urdu Times Mumbai | All Rights Reserved.
Site devloped by UNN IT