Friday, September 10, 2010, 03:52:27 PM Download Font  |   Urdu Keyboard  |   On-Screen Keyboard  
Urdu Times
The Urdu Times Daily, Mumbai
Home Aaj Kal Analysis Editorial Entertainment Sports News Mumbai News Regional News Islamic News World News National News
         
  اترپردیش میں بدنظمی کی ایک مثال

٭ڈاکٹرادت راج :
جمہوریت میںبھی حکومت چلانے کے کئی طورطریقے ہیں۔ دستورمیں خاطرخواہ اصول وضوابط ہونے کے باوجود کچھ مفاد پرست لیڈروںنے اقتدار کا بے جا استعمال پہلے بھی کیا اورفی الوقت اترپردیش میںتواس کی حدیں ہی توڑ دی گئی ہیں۔ جذبات کی سیاست میں جوابدہی کم ہوتی ہے ‘کیونکہ پارٹی کے حمایتی اندھی عقیدت رکھتے ہیں ۔جب حمایتی اندھی عقیدت کے چلتے قیادت سے حساب کتاب لینے سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ہیں توعدم احتسابی بڑھتی جاتی ہے۔ ترقی کی سیاست کرنے والوںنے بھی اقتدار کا بے جا استعمال کیاہے ‘ لیکن وہاں اتنی رعایت نہیںہے۔ اترپردیش میںحالات ا س قدر خراب ہیںکہ جمہوری طریقے سے دھرنا مظاہرہ کرنا بھی مشکل ہوگیاہے ۔ مغربی اترپردیش کے ضلع بجنور میںدفعہ ۱۱۴ لگی ہے۔ پورے ضلع میںدفعہ ۱۴۴ لگانا چہ معنی دارد؟ اس قانون کے تحت چاریا اس سے زیادہ افراد اکٹھے نہیںہوسکتے ۔کچھ دنوںپہلے قصبہ نہٹور‘ضلع بجنورمیںانڈین جسٹس پارٹی کی یوتھ فرنٹ کی صدرساریکا چودھری کی قیادت میں بجلی کٹوتی کولے کر کئی دنوںتک دھرنا چلا۔ انتظامیہ نے جب کوئی سانس نہیں لیا تولوگوںکا غصہ پھوٹ پڑا اورنتیجتاً پولس اور عوام کے درمیان ٹکراو¿ کی نوبت آگئی ۔ بے قصور لوگوںپر ۱۴ فرضی دفعات لگائی گئیں ۔ جس میںسے ۳۰۷ (قتل کی کوشش ) ۳۹۵ (ڈکیتی ) ‘ ۳۹۷ (ڈکیتی اورقتل کا ارادہ ) وغیرہ تک ۲۶ لوگوںکے نام اور ۱۵۰ نامعلوم افراد کے خلاف در ج ہوگئیں۔ ۴ افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیاگیا۔ جن میںسے تین اب بھی جیل میںہیں اورباقی لوگ گھرسے فرارہیں۔ واقعہ کے دوسرے دن جب میں بجنور پہنچا تو بھاری پولس پیچھے لگادی گئی اورآخرکارمجھے ضلع چھوڑنا پڑگیا۔ یہ واقعہ کوئی انوکھا نہیںہے ۔ اترپردیش کانگریس صدرشریمتی ریتا بہوگنا جوشی کے خلاف بھی اس طرح کی کارروائی کی گئی تھی ۔ سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر اکھلیش یادو اورشیوپال یادوکے ساتھ بھی پولس دھرنا مظاہرہ کے دوران نازیبا سلوک کرچکی ہے ۔ اترپردیش میںبدنظمی کا یہ عالم ہے کہ آج کوئی بھی پارٹی بے خوف ہوکرعوامی مسائل پر دھرنا مظاہرہ نہیںکرپارہی ہے ۔ کارل مارکس نے کہا تھا کہ مذہب عوام کے لئے افیم کی طرح کام کرتا ہے۔ اگروہ آج موجود ہوتے تو کہتے کہ ذا ت پات سے بڑا کوئی نشہ ہی نہیںہے ۔ذات کے لوگوںکی ترقی ہورہی ہے یانہیں‘ نشے میںچور ہونے کے باعث انہیںتجربہ بھی نہیںہورہا ہے۔ سرکاری دولت اور ترقیاتی فنڈ کا بھی بے جا استعمال بڑے پیمانے پرہورہا ہے ۔ آبکاری محکمہ میں دوطرح کے قانون چل رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے ایک قریبی شراب کے بڑے تاجر کومیرٹھ ‘سہارنپور‘مراد آباد اوربریلی زون میں یعنی غازی آبادسے لے کربریلی تک ۱۶ جن پد میں ریٹیل فروخت کامکمل ٹھیکہ دے دیاگیا ۔ بقیہ اضلاع میںلاٹری سے شراب فروخت کی جاتی ہے۔ ا س میںسے بھی آدھے سے زیادہ دکانیں مذکور ہ تاجر کی ہیں۔ اترپردیش کے تمام اضلاع میںہول سیل تاجربھی یہی ہے ۔ مذکورہ بالا ۱۶ اضلاع میں درج قیمت سے اوپر ۱۰ سے ۵۰ روپئے زائد لئے جارہے ہیں۔ جو لگ بھگ تین کروڑ روپئے یومیہ کے حساب سے ہیں۔ پوری ریاست میںجودیسی شراب کی فروخت ہوتی ہے ‘وہ اسی شخص کی فیکٹریوںمیں بنتی ہے۔ پہلے کئی شراب سازوںسے شراب خریدی جاتی تھی ۔ ملک میںکوئی ایسی ریاست نہیںہے جہاں دوآبکاری پالیسیاں لاگوہوں۔ سینکڑوں متاثرہ خاندانوںنے الہ آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائرکی ہے۔ ایسی بدنظمی ہندستان میں آزادی کے بعدکہیںبھی نہیںہوئی ہوگی۔ لوٹ کھسوٹ اوربدعنوانی ضرور ہوئی ہوگی لیکن ایک ہی ریاست میںدوقوانین چلے ہوں‘ ایسا توکبھی نہیںہوا۔ زیادہ تر ڈی ایم ‘ ایس پی ‘ سی او‘ ایس ڈی ایم اورصدفیصد افسران انتظامیہ کے افسر نہ ہوکربہوجن سماج پارٹی کے رضاکاروں کی طرح کام کررہے ہیں۔ سالگرہ ہویا ریلی سبھی افسران پر ذرائع سے لے کرپیسوں تک کی ذمہ داری طے کردی جاتی ہے‘جوافسران غیراعلان شدہ ہدایتو ںکو نہیں مانتاہے ‘اس کووہاں سے ہٹادیاجاتاہے ۔ نہرکی کھدائی ‘ پُل کی تعمیر وغیرہ کے ٹھیکوںمیں ۴۰فیصد سے زیادہ تک کمیشن دینا پڑرہا ہے۔ ایسے میںسڑک ہویا کوئی اورتعمیر اس کا معیار کس طرح قائم کیاہوگا ‘ جاننا مشکل نہیںہے ۔ بجنورمیں اُتّم نگرمل کے مالک نے کروڑوں کا سیرہ بیچ دیا۔ حکومت کے علم میں آنے کے باوجود اس کا کچھ نہیںہوا۔ مادہ پرستی اس قدر اثراندازہونے لگی ہے کہ افسران اپنے وقار کوبھول گئے ہیں۔ ایک طرح سے کمیشن ایجنٹ کا کام کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ زیادہ تر لوگوںسے تو۔ تڑاخ سے بات کرتی ہیں۔ لیکن یہ افسران مالی فائدے کے چکرمیںاپنی قدرومنزلت کھوچکے ہیں‘کسی بھی ملازم ‘ افسر کا کوئی کچھ بگاڑنہیں سکتا‘ اگروہ اپنی تنخواہ میںہی مطمئن ہے تو ۔جو لوگ آج اندھی عقیدت کے ساتھ حمایت کررہے ہیں ‘آنے والی نسل کو کیاجواب دیںگے ؟ خودسے سوال کریں ۔ لگ بھگ سبھی سرکاری تنظیموں کا زوال ہوچکاہے ۔ درج فہرست ذات کمیشن میں ۱۷سے زیادہ اراکین ہیں۔ جن کی میعاد تین سال سے کم کرکے ایک سال کردی گئی ہے ۔ چھ مہینے توکام سیکھنے میں لگتے ہیں۔ باقی چھ مہےنوں میںکوئی کیا کرسکتاہے ۔ اس سے قبل پانچ اراکین اور ایک صدر ہوا کرتا تھا اوراب ۱۷ اراکین ‘ ۵نائب صدور اورایک صدرہیں۔ حالت اتنی خستہ ہے کہ درج فہرست ذاتوں کے کمیشن کے موجودہ صدر سے پچھلے صدرکی تعلیم صرف انٹرمیڈیٹ تک تھی ۔ پسماندہ جماعت کمیشن میںبھی ۱۷ اراکین ہیں اوریہی حالت خواتین کمیشن کی ہے۔ اراکین کو لکھنو¿میں رہنے کی اجازت نہیںہے اور سرکاری طورپر انہیں مکان دینے کے لئے منع کردیاگیاہے تاکہ وہ لکھنو¿میں نہ رہیں۔ یہ تنخواہ اورگاڑی کی سہولت لے کر بی ایس پی کا کام کرنے لکھنو¿ سے باہر نکل جاتے ہیں۔ لکھنو¿ اگرآتے بھی ہیںتوخفیہ طورپر۔ ایسے میں کیا دلتوںکے ساتھ نا انصافی ہونے پران سے انصاف کی امیدہے ؟ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ہرزون کا رکن ہوتا کہ وہ اپنا زون پارٹی کے لئے تیارکرسکے ۔ اسی طرح پسماندہ اور خواتین کے مسائل کے تدارک کے لئے بنائے گئے اراکین بی ایس پی کے رضاکاروں کی طرح کام کررہے ہیں۔ بجلی کمیشن میںکوئی رکن نہیںہے ۔ صرف ایک چیئرمین ہیں ‘جن کی قابلیت محض سپروائزری انجینئرکی ہے ۔ جبکہ قانوناً چیف انجینئر سے کم عہدے کا شخص کمیشن کا صدرنہیںبن سکتا۔ مزے کی بات یہ ہے ان کی قابلیت سول انجینئر کی ہے۔ جبکہ بجلی سے متعلق محکمہ کی ہونی چاہئے تھی ۔یہ عہدہ کا بینی سیکریٹری کے مشابہ ہے ۔ ان صاحب کی وجہ سے جوبھی سامان محکمہ میںخریدا جارہا ہے ‘اس کا معیارادنیٰ درجے کا ہے۔ آئے دن ٹرانسفارمرجل رہے ہیں ‘اسی کا پھل ہے ۔بجلی صارفین فورم بھی معذورہے ۔ صارف کمیشن کے اراکین کی یہ حالت ہے کہ ان کی تنخواہ لگ بھگ چھ ہزارکے آس پاس ہے ‘ اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ کس معیار کی قابلیت کے حامل افراد کا تقرر ہورہا ہے ۔ درج فہرست ذاتوںکے کمیشن ہویا دیگر‘ اگرمعلوم کیاجائے کہ ان کے ذریعے کتنی شکایات کا ازالہ کیاگیاتو بہت ہی بدتر حالت سامنے آئے گی۔ ایسا اس لئے بھی کیاجارہا ہے تاکہ عوام اپنے حقوق کوان اداروںکے ذریعے حاصل کرنے کے لئے حکومت پر دباو¿نہ بنائے ۔ ایک آئی اے ایس افسر پر وزیراعلیٰ کی اس قدرمہربانی ہے کہ ان کواترپردیش کے بجلی محکمے کے تمام کارپوریشن لمٹیڈ کا چیئرمین بنارکھا ہے۔ اترپردیش میں پانچ کارپوریشن ہیںاورانہیں صحیح طریقے سے چلانے کے لئے ہرایک کا چیئرمین الگ الگ فرد ہوناچاہئے تھا۔ اس کے آگے کی کہانی سنیںکہ اس شخص کو ٹرانمیشن نگم کی بھی ذمہ داری ہے ۔ معاملہ یہی نہیںختم ہوتا۔ یہ جناب واٹراتھارٹی اور نیڈا کے بھی چیئرمین ہیں۔ اترپردیش میں آئی اے ایس افسران کی بھرمار ہے ۔ اگرریاست کوصحیح طریقے سے چلانے کا ارادہ ہوتاتو کام کرنے کی صلاحیت کے مطابق ہی ذمہ داریاں ان کوسونپی جاتی ۔۱۳اپریل ۲۰۰۹ ءکو انڈین جسٹس پارٹی کے جونپور لوک سبھا علاقے کے امیدوار بہادر سونکر کا قتل کردیاگیا.... رات میںگھر پر سوتے ہوئے انہیںاٹھالیا گیا اور قتل کرکے لاش کوببول کے پیڑپر لٹکادیاگیا۔ سونے سے پہلے رات میں گھروالوںسے بھی اپنی جان کوخطرے کی بات کررہے تھے ۔ ۸اپریل سے ہی لگاتار دھمکی دی جارہی تھی کہ وہ اپنی نامزدگی واپس لے لیں۔ دھمکی دینے والوں میںسی او‘ایس چوکی انچارج بھی تھے ۔ ۹اپریل کواس کی اطلاع پولس سپرنٹنڈنٹ اورکلکٹر کودی گئی کہ ان کی جان بچائی جائے ۔ میڈیا کوبھی انہوںنے بیان دیا۔ ریاستی حکومت کے داخلہ سیکریٹری اورآئی جی کوبھی تحریری طورپر مطلع کیاگیاتھا۔ ریاست کے چیف الیکشن آفیسراور الیکشن کمیشن کے علم میں بھی یہ بات لائی گئی ۔ واردات کے ہی دن ایڈیشنل آئی جی جانچ کرنے پہنچ گئے ۔ ملزموںکا نام عوام چیخ چیخ کربتارہے تھے ۔ کسی بھی قسم کی کارروائی نہیںہوئی اور مقدمہ نامعلوم افرا دکے نام سے درج کیاگیا۔ الیکشن کمیشن کے رکن قریشی لکھنو¿گئے توانہوں نے کہا کہ اگر قتل سیاسی سازش کے نتیجے میں ہواہے توانتخابی عمل کوروکا جاسکتاہے ۔ حکومت کواس سے لگاکہ اس کی ایک سیٹ کا نقصان ہوسکتاہے توآناًفاناً میںپولس آئی جی سے کہلوایا کہ فی الفور یہ خودکشی کا معاملہ لگتاہے ۔اس کے پس پشت یہی سوچ کارفرماتھی کہ الیکشن کمیشن کہیںالیکشن پرروک نہ لگادے۔ سال بھرسے زیادہ سی بی سی آئی ڈی کی تفتیش چلتی رہی اور آخرمیں ۵مئی ۲۰۱۰ءکوفائنل رپورٹ میںکہا گیا کہ یہ خودکشی کا ہی معاملہ ہے۔ یہ کتنی شرمناک بات ہے کہ اندازہ لگانامشکل نہیںہے ۔ صوبہ کی وزیراعلیٰ ‘لگتا ہے کہ عوام کے ذریعے منتخب ہوکرکرسی پربھی نہیں بیٹھی ہیں بلکہ ایک تانا شاہ ہیں۔ ایم ایل اے اوروزیر بھی ملنا چاہیں تو بہت ہی مشکل ہے ۔ جوپرانے بی ایس پی کے مشنری ہوا کرتے تھے ۔ ان سے ملنے کا توکوئی مطلب ہی نہیںہے ۔
چنندہ افسران ‘ تجاراور پارٹی کے لیڈروںسے ہی وہ گھری ہوئی ہیں ۔پہلے کے راج راجواڑے بھی اس طرح حکومت کرتے تھے ۔ طاقت جمہوریت کی نہیںبلکہ ذا ت پات کی حمایت کی ہے ‘ دلت سماج کے لوگ اندھی عقیدت میںڈوبے ہوئے ہیںاورجومستقبل تباہ ہورہا ہے ‘ ان کوابھی اس کا احساس نہیںہوپارہا ہے۔ مکھوٹا امبیڈکر واد کا ہے لیکن ان کے اصولوںسے کوئی لینا دینا نہیںہے ۔ دوسری پارٹیاں بھی ذمہ دار ہیں ۔ان کوجب حکومت کرنے کا موقع ملا تو وہ دلتوںاور غریبوں کو یہ یقین نہیںدلاپائے کہ اس اقتدار میں ان کا بھی حصہ ہے ‘ کارل مارکس اگرزندہ ہوتے تووہ مذہب کو عوام کے لئے افیم نہ بتاتے بلکہ ذات کوبتاتے ۔٭٭
(مصنف انڈین جسٹس پارٹی کے قومی صدراور درج فہرست ذات جماعت کی تنظیموں کے قومی کونسل کے چیئرمین ہیں۔)




28th Jul 2010, 03:02 pm.
         
 
عےد مبارک!
10-Sep-2010, 03:45 PM
ملت اسلامیہ کی عیداتنی افسردہ کیوں؟
10-Sep-2010, 03:44 PM
لاو¿ڈاسپیکر کاظالمانہ استعمال
09-Sep-2010, 05:30 PM
تو ہم کےا کررہے ہےں؟
09-Sep-2010, 05:29 PM
....اُن کاہارنامشکل!
08-Sep-2010, 04:07 PM
الوداع رمضان:اللہ کے حضور دست بہ دعا ہوجائیں!
08-Sep-2010, 04:06 PM
مردہ آوازوں کے جنگل میں
07-Sep-2010, 04:15 PM
پی چدمبرم کو کانگریس پارٹی کا مشورہ
07-Sep-2010, 04:14 PM
تلنگانہ تحرےک‘ قےادت کی مفاد پرستی کا شکار!
06-Sep-2010, 04:26 PM
یہ وہی خدا کی زمین ہے یہ وہی بتوں کا نظام ہے
06-Sep-2010, 04:26 PM
یوپی کی دھماکو صورت حال
05-Sep-2010, 03:39 PM
عالمی یوم قدس : اسرائیلی مظالم کے خلاف کامیاب تحریک
05-Sep-2010, 03:37 PM
لایعنیت سے آگے!
04-Sep-2010, 04:16 PM
قرآن دلوں کو مسخر کرنے والی معجزاتی کتاب
04-Sep-2010, 04:16 PM
لایعنیت سے آگے!
03-Sep-2010, 03:39 PM
 
 
 
Search
       
  کون سنے مری نوا تےز ہوا کے شور مےں  
  آپ اپنے باپ داد ا کی ڈھائی سو کروڑ  
  ہندوستان میں سفےد پوش چوروں کی چاندی  
  شرم تم کو مگر نہےں آتی !  
  اب مائی نےم از خان پارٹ ٹو  
  بہن کے عاشق کو قتل کر کے آنگن مےں دفن کر دےا  
  مصےبت، صبر اور رضا  
  عوامی عدالت  
  اندھیر نگری چوپٹ راج  
  زکوٰ ة دینے کے نام پر درجنوں معذور اپاہج مرد خواتین کو لوٹ لیا  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  ڈی اےن اے تخلےق الٰہی کا کرشمہ  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ  
  مالی نقصانات سے ہم بےمار ہو سکتے ہےں  
  اور راز کھل گیا!  
  خدادیکھ رہا ہے  
  دھنک کی کہانی  
  اورپری ناراض ہوگئی  
  ”کالو زندہ باد“  
  ٭تھانے مےونسپل کارپورےشن کے محکمہ حفظان صحت مےں مواقع  
  آخر AMIEگرےجوےٹ لےول فارمل اےجوکےشن کےا ہے؟  
  ہندوستان میں پریمیئر کالج میں حصہ داری  
  مہنگی تعلےم نے مستحق طلبا ءکے ارمانوں کا گلا گھونٹ دےا  
  بےنک آف بڑودہ کو کلرکوں کی ضرورت  
  قصر سفید میں مرد سیاہ....  
  فرقہ پرستی ‘ ڈاکہ وقتل جیسا جرم کیوںنہیں ؟  
  اُمت مسلمہ کے مسائل  
  ادائیگیِ نماز: آداب و احکام  
  بیت المقدس ....کسی ایوبی کے انتظار میں  
  ام المومنےن حضرت عائشہ ؓ  
  خوبصورت لباس اور خوبصورت نظر آنا ہر خاتون کی خواہش  
  رمضان المبارک اور خواتےن کے شب وروز  
  زینب سلیم ڈار  
  ماہ صےام مےں خصوصی پکوانوں کا اہتمام کرےں!  
 
 
 
Home | National News | Regional News | Mumbai News | World News | Islamic World | Aaj Kal | Analysis | Editorial | Entertainment | Sports | Contact us | Privacy Policy
Copyright © Roznama Urdu Times Mumbai | All Rights Reserved.
Site devloped by UNN IT