|
|
|
| |
|
|
|
|
| |
زبانِ خلق!
شےخ ےاسےن شہےد نے برسوں پہلے کہا تھا کہ اکےسوےں صدی کی پہلی چوتھائی مےں صہےونی رےاست کی تجہےز وتکفےن مکمل ہوجائے گی۔ اور اب کوئی اور نہےں سی آئی اے کی اےک حا لےہ رپورٹ مےں کہا گےا ہے کہ ”۲۰۲۰ کے بعد دُنےا مےں اسرائےل نام کی کوئی رےاست نہےں رہے گی“آخر سی آئی اے کی اس رپورٹ کا پس منظر کےاہے؟ اسرائےلی پارلیمنٹ کے اےک سابق اسپےکر ابرہام پورگ نے اپنی تازہ ترےن کتاب ’ہٹلر کے خلا ف کامےابی‘ مےں لکھا ہے کہ ”صہےونی خواب کا خاتمہ ہمارے دروازوں کی دہلےز سے آن لگا ہے۔ اب ےہ خدشہ حقےقت مےں ڈھل رہاہے کہ ہماری نسل آخری صہےونی نسل ہوگی.... اسرائےل کے موجودہ حالات جرمنی مےں ہٹلر کی آمد کے وقت کے حالات سے مشابہ ہوچکے ہےں۔ استعمار اور فتنہ و فسا د کا اتحاد رےاست (اسرائےلی) پر مسلط ہے“ عبرانی زبان کے اسرائےلی روزنامے ’ےدےعوت احر ونوت‘ نے ۲۰ جون ۲۰۱۰ءکو اپنے ادارئےے مےں لکھا : ”ہم جنگ کے عروج پر ہےں اور ہم ےہ جنگ ہار رہے ہےں جن کتا بوں مےں اسرائےل کے خاتمے کی بات لکھی جاتی ہے ان مےں تےن اہم پہلو بےان کئے جاتے ہےں: ۱ ۔ اقتصادی جنگ ، جس مےں اسرائےلی سامان کابائےکاٹ ، سےاحت کی ناکامی، اسرائےل کے دفاع اور امن وامان پر بے تحاشہ اخراجات شامل ہےں۔ ۲۔ سےاسی اور نفسےاتی جنگ جس مےں اسرائےل سے اُس کا حقِ وجود چھےن لےا جائے۔ حالےہ بحری قافلے (فرےڈم فلوٹےلا وغےرہ) اسی کا حصہ تھے اور ۳۔ عسکری لحاظ سے اسرائےل کو کمزور اور دےمک زدہ کرنا۔ ہمارے دشمن پہلے دونوں پہلوﺅں پر زےادہ توجہ دے رہے ہےں.... ترکوں نے ہمارے لئے فلم کا منظر نامہ تےار کرکے پےش کےا ہے اور ہم نے ترک پر وڈےو سر کی مرضی کے مطابق اس فلم مےں اپنا کردار ادا کرڈالا۔ نتےجہ ےہ نکلا کہ آج پوری دنےا آنسو بہاتے ہوئے ہم سے اظہار ِنفرت کررہی ہے۔“ جدعون لےوی نام کے اےک کالم نگار نے ۲۱ جون کے اسی روزنامے مےں لکھا کہ ”اسرائےل ےہ چاہتا ہے کہ دنےا ہم سے غےر مشروط اور غےر محدود محبت کرے۔ ساتھ ہی وہ ےہ بھی چاہتا ہے وہ خود (ےعنی اسرائےل) پوری دنےا کامذاق اڑاتا رہے، عالمی اداروں ، اس کے قوانےن او ر اس کے نظرےات کے منہ پر حقارت سے تھوکتا رہے۔ وہ (اسرائےل ) ترکی سے فعال سےاحت کا معاہدہ چاہتاہے لےکن ترکی کی کسی بات پر کان نہےں دھرنا چاہتا۔ وہ چاہتا ہے کہ غزہ پر سفےد فاسفورس کے بم برسا کردُنےا سے کہے کہ جناب! ےہ تو خوشگوار سفےد بارش ہے اور وہ چاہتا ہے کہ پھر دنےا بھی اس کے ساتھ ےہی گنگنا نا شروع کردے۔“ اُسی روز( ۲۱ جون ۲۰۱۰ کو) اےک دوسرے عبرانی روزنامے ہآرٹز مےں صحافی اَلوف بُن نے لکھا : ”ترک وزےر اعظم رجب طیب اردو گان اب اپنی کامےابی کا بڑا سانشان بلندکر سکتے ہےں۔ غزہ جانے وا لا ترکی کاقافلہ غزہ تو نہےں پہنچ سکا لےکن اس نے اپنا ہدف تو حاصل کرلےاہے! اس نے حماسستان (غزہ) کے گرد کھڑی کی گئی اسرائےلی حصار کی دےوارےں منہدم کردی ہےں....“ اس سے اےک روز قبل (۲۰ جون ۲۰۱۰کو ) روزنامے ےدےعوت احرو نوت مےں اےک کالم نگار سمدار بےری نے لکھاتھا: ”گزشتہ مرحلے مےں بلاشبہ حماس ہی کامےاب رہی۔ ساری دنےا ہمےں مطعون کررہی ہے.... آج صورت ےہ ہے کہ خود روشن خےال دنےا بھی حماس سے مذاکرات پر اصرار کررہی ہے دنےا مےں کوئی طاقت اےسی نہےں ہے جو تےن بار ودی سرنگوں (ےعنی فرےڈم فلوٹےلا کے بعد غزہ جانے والے تےن بحری قافلوں) کے مقابلے مےں کامےاب ہوسکے۔ اگر کسی کو پاگل پن کادورہ پڑا ہے تو اسے اپنے ان بھےانک خوابوں کے ساتھ ساتھ خطے مےں اےک وسےع ترجنگ بھڑک اُٹھنے کے امکانات پر بھی غور کرلےنا چاہےے۔“ مشہور دانشور کالم نگار اور امور مغربی اےشےاءکے ماہر عبدالغفار عزےز نے اپنے مضمون ’سفےنہ¿ حریت اور اسرائےل کا مستقبل‘ ‘ (ترجمان القرآن جولائی ۲۰۱۰) مےں لکھا ہے کہ” ہرطرف ہاہاکار مچ گئی ہے۔ صہےونی رےاست کے دشمن ہی نہےں اس کے دوست بھی دہائےاں دےنے لگے ہےں کہ صہےونی رےاست کو باقی رکھنا ناممکن ہوگےا ہے۔ سرزمےن ِفلسطےن سے اس کے اصل باشندوں کو دنےا بھر کی خاک چھاننے پر مجبور کردےنے، لاکھوں انسانوں کو تنگ وتارےک اور مُتَعفِّن مہاجر کےمپوں مےں محبوس کردےنے ا ور لاکھوں کو غزہ اور مغربی کنارہ مےں محصور کردےنے کے بعد‘ وہاں قائم کی جانے والی نام نہاد رےاست کےا واقعی اپنے خاتمے کے سفر کا آغاز کرچکی ہے؟ اس وقت صورتِ حال ےہ ہے کہ خود ےہودےوں کی اےک بڑی تعداد اسرائےلی رےاست سے نجات حاصل کرکے اپنے ےہودی بھائےوں کو بچانے کےلئے مےدان مےں آچکی ہے۔ ان ےہودےوں علما ےہودی دانشوروں اور سےاسی رہنماﺅں کے بقول اسرائےلی رےاست کا وجود بالآخر پوری ےہودی آبادی کے خاتمے کاباعث بنے گا۔ ان کے بقول اُن کی مذہبی کتابوں مےں بھی واضح طو رپر لکھا ہے کہ ےہودےوں کی حتمی تباہی سے پہلے دنےا بھر کے ےہودےوں کو اےک جگہ جمع کردےا جائے گا۔ اسرائےل اس انتباہ کی عمل تصوےر ہے۔ ۳۵ کلو مےٹر لمبی اور سات سے چودہ کلومےٹر چوڑی غزہ پٹی مےں گھر ے پندرہ لاکھ عوام کی آزمائشےں ختم ہونے کاوقت ےقےناقریب آن لگا ہے۔ (انشاءاللہ) غےور ترک بھائےوں کے خون سے سرخ ان کاقومی پرچم اعلان کررہاہے۔ ”دنےا والو! لوہا گرم ہے اور آخری ضرب کامنتظر تم اےک قدم اُٹھاﺅ گے تو ربِ کائنات تمھاری طرف دس قدم آئے گا۔ تم چلنا شروع کرو گے تو اس کی رحمت ونصرت دوڑ کر تمہےں اپنے سائے مےں ڈھانپ لے گی“!٭
27th Jul 2010, 02:02 pm. |
| |
|
|
|
|
| |
لاو¿ڈاسپیکر کاظالمانہ استعمال 09-Sep-2010, 05:30 PM |
 |
|
تو ہم کےا کررہے ہےں؟ 09-Sep-2010, 05:29 PM |
 |
|
....اُن کاہارنامشکل! 08-Sep-2010, 04:07 PM |
 |
|
الوداع رمضان:اللہ کے حضور دست بہ دعا ہوجائیں! 08-Sep-2010, 04:06 PM |
 |
|
مردہ آوازوں کے جنگل میں 07-Sep-2010, 04:15 PM |
 |
|
پی چدمبرم کو کانگریس پارٹی کا مشورہ 07-Sep-2010, 04:14 PM |
 |
|
تلنگانہ تحرےک‘ قےادت کی مفاد پرستی کا شکار! 06-Sep-2010, 04:26 PM |
 |
|
یہ وہی خدا کی زمین ہے یہ وہی بتوں کا نظام ہے 06-Sep-2010, 04:26 PM |
 |
|
یوپی کی دھماکو صورت حال 05-Sep-2010, 03:39 PM |
 |
|
عالمی یوم قدس : اسرائیلی مظالم کے خلاف کامیاب تحریک 05-Sep-2010, 03:37 PM |
 |
|
لایعنیت سے آگے! 04-Sep-2010, 04:16 PM |
 |
|
قرآن دلوں کو مسخر کرنے والی معجزاتی کتاب 04-Sep-2010, 04:16 PM |
 |
|
لایعنیت سے آگے! 03-Sep-2010, 03:39 PM |
 |
|
قرآن دلوں کو مسخر کرنے والی معجزاتی کتاب 03-Sep-2010, 03:39 PM |
 |
|
یوم قُدس۔۲ 02-Sep-2010, 04:09 PM |
 |
|
|
|
|
| |
|
|
|